اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 29

سے تھی۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے بھی جب کہ مسلمانوں میں دولت آئی وہ ایسا ہی کرتے تھے ابن سوداء جب شام سے گزر رہا تھا اس نے ان کی طبیعت میں دولت کے خلاف خاص جوش دیکھ کر یہ معلوم کر کے کہ یہ چاہتے ہیں کہ غرباء وامرا ء اپنے مال تقسیم کر دیں۔شام سے گزرتے ہوئے جہاں کہ اس وقت حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مقیم تھے ان سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ دیکھئے کیا غضب ہو رہا ہے۔معاویہ بیت المال کے اموال کو اللہ کا مال کہتا تھا حالانکہ بیت المال کے اموال کی کیا شرط ہے ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر وہ خاص طور پر اس مال کو مال اللہ کیوں کہتا ہے۔صرف اس لئے کہ مسلمانوں کا حق جو اس مال میں ہے اس کو ضائع کر دے اور ان کا نام بیچ میں سے اُڑا کر آپ وہ مال کھا جاوے۔حضرت ابوذر تو آگے ہی اس تلقین میں لگے رہتے تھے کہ امراء کو چاہئے کہ سب مال غرباء میں تقسیم کر دیں کیونکہ مؤمن کے لئے آرام کی جگہ اگلا جہاں ہی ہے اور اس شخص کی شرارت اور نیت سے آپ کو بالکل واقفیت نہ تھی۔بس آپ اس کے دھوکا میں آگئے اور خیال کیا کہ واقع میں بیت المال کے اموال کو مال اللہ کہنا درست نہیں۔اس میں اموال کے غصب ہو جانے کا خطرہ ہے۔ابن سوداء نے اس طرح حضرت معاویہؓ سے اس امر کا بدلہ لیا کہ کیوں انہوں نے اس کے ٹکنے کے لئے شام میں کوئی ٹھکانا نہیں بننے دیا۔حضرت ابوذر معاویہ کے پاس پہنچے اور ان کو سمجھایا کہ آپ مسلمانوں کے مال کو ماك اللہ کہتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ اے ابوذر! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے کیا ہم سب اللہ کے بندے نہیں؟ یہ مال اللہ کا مال نہیں؟ اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں ؟ اور حکم خدا کے ہاتھ میں نہیں ؟ یعنی جب کہ بندے بھی خدا کے ہیں اور حکم بھی اسی کا جاری ہے تو پھر ان اموال کو اموال اللہ کہنے سے لوگوں کے حق کیونکر ضائع ہو جائیں گے۔جو خدا تعالیٰ نے 29