اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 20
اس دین کا خاتمہ ہو جائے گا جس نے اپنے لئے یہ شاندار مستقبل مقرر کیا ہے کہ هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف: ١٠) یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنا رسول سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس دین کو باوجود اس کے منکروں کی ناپسندیدگی کے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے۔فتنہ حضرت عثمان کے وقت میں کیوں اٹھا؟ میں نے ان تاریخی واقعات سے جو حضرت عثمان کے آخری ایام خلافت میں ہوئے نتیجہ نکال کر اصل بواعث فتنہ بیان کر دیئے ہیں۔وہ درست ہیں یا غلط اس کا اندازاہ آپ لوگوں کو ان واقعات کے معلوم کرنے پر جن سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے خود ہو جائے گا۔مگر پیشتر اس کے کہ میں وہ واقعات بیان کروں اس سوال کے متعلق بھی کچھ کہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ فتنہ حضرت عثمان کے وقت میں کیوں اٹھا؟ بات یہ ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے۔ان نومسلموں میں اکثر حصہ وہی تھا جو عربی زبان سے ناواقف تھا اور اس وجہ سے دین اسلام کا سیکھنا اس کے لئے ویسا آسان نہ تھا جیسا کہ عربوں کے لئے اور جو لوگ عربی جانتے بھی تھے وہ ایرانیوں اور شامیوں سے میل ملاپ کی وجہ سے صدیوں سے ان گندے خیالات کا شکار رہے تھے جو اس وقت کے تمدن کالازمی نتیجہ تھے۔علاوہ ازیں ایرانیوں اور مسیحیوں سے جنگوں کی وجہ سے اکثر صحابہ اور ان کے شاگردوں کی تمام طاقتیں دشمن کے حملوں کے رد کرنے میں صرف ہو رہی تھیں۔اس ایک طرف توجہ کا بیرونی دشمنوں کی طرف مشغول ہونا دوسری طرف اکثر نو مسلموں کا عربی زبان سے ناواقف ہونا یا جمی خیالات سے متاثر ہونا دو عظیم الشان سبب تھے اس امر 20 20