اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 19

انسانوں سے بالا ہستی نظر آنے لگے۔اور وہ تمام امید میں اپنے دل سے نکال بیٹھے۔مگر جب کچھ عرصہ فتوحات پر گزر گیا اور وہ حیرت و استعجاب جوان کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا کم ہوا اور صحابہ کے ساتھ میل جول سے وہ پہلا خوف و خطر جاتا رہا تو پھر اسلام کا مقابلہ کرنے اور مذاہب باطلہ کو قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔اسلام کی پاک تعلیم کا مقابلہ دلائل سے تو وہ نہ کر سکتے تھے۔حکومتیں مٹ چکی تھیں اور وہ ایک ہی حربہ جو حق کے مقابلہ میں چلا یا جا تا تھا یعنی جبر اور تعدی ٹوٹ چکا تھا۔اب ایک ہی صورت باقی تھی یعنی دوست بن کر دشمن کا کام کیا جائے اور اتفاق پیدا کر کے اختلاف کی صورت کی جائے۔پس بعض شقی القلب لوگوں نے جو اسلام کے نور کو دیکھ کر اندھے ہو رہے تھے اسلام کو ظاہر میں قبول کیا اور مسلمان ہوکر اسلام کو تباہ کرنے کی نیت کی۔چونکہ اسلام کی ترقی خلافت سے وابستہ تھی اور گلہ بان کی موجودگی میں بھیڑ یا حملہ نہ کر سکا اس لئے یہ تجویز کی گئی کہ خلافت کو مٹایا جاوے اور اس سلک اتحاد کو توڑ دیا جاوے جس میں تمام عالم کے مسلمان پروئے ہوئے ہیں تا کہ اتحاد کی برکتوں سے مسلمان محروم ہو جائیں۔اور نگر ان کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر مذاہب باطلہ پھر اپنی ترقی کے لئے کوئی راستہ نکال سکیں اور دجل وفریب کے ظاہر ہونے کا کوئی خطرہ نہ رہے۔یہ وہ چار بواعث ہیں جو میرے نزدیک اس فتنہ عظیم کے برپا کرنے کا موجب ہوئے۔جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں ملت اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیا اور بعض وقت اس پر ایسے آئے کہ دشمن اس بات پر اپنے دل میں خوش ہونے لگا کہ یہ قصر عالی شان اب اپنی چھتوں اور دیواروں سمیت زمین کے ساتھ آلگے گا اور ہمیشہ کے لئے 19