اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 92
جگہ تھی جہاں لوگ جمع ہو سکتے تھے۔مگر ان لوگوں نے نہایت ہوشیاری سے اس کا بھی انتظام کر لیا تھا اور وہ یہ کہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے اور اہل مدینہ کو اس طرح ایک دوسرے سے جداجدار کھتے کہ وہ کچھ نہ کر سکتے۔حضرت عثمان کا مفسدوں کو نصیحت کرنا باوجود اس شور و فساد کے حضرت عثمان نماز پڑھانے کے لئے باقاعدہ مسجد میں تشریف لاتے اور یہ لوگ بھی آپ سے اس معاملہ میں تعریض نہ کرتے اور امامت نماز سے نہ روکتے حتی کہ ان لوگوں کے مدینہ پر قبضہ کر لینے کے بعد سب سے پہلا جمعہ آیا۔حضرت عثمان نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو نصیحت فرمائی۔اور فرمایا کہ اے دشمنانِ اسلام ! خدا تعالیٰ کا خوف کرو۔تمام اہل مدینہ اس بات کو جانتے ہیں کہ تم لوگوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔پس تو بہ کرو اور اپنے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے سے مٹاؤ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں کے سوا کسی اور چیز سے نہیں مٹاتا۔اس پر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں اس امر کی تصدیق کرتا ہوں۔ان لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عثمان پر تو ہمارے ساتھی بدظن ہیں لیکن صحابہ نے اگر آپ کی تصدیق کرنی شروع کی اور ہماری جماعت کو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری نسبت خاص طور پر پیشگوئی فرمائی تھی تو عوام شاید ہمارا ساتھ چھوڑ دیں۔اس لئے انہوں نے اس سلسلہ کو روکنا شروع کیا۔اور محمد بن مسلمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابی کو جو تائید خلافت کے لئے نہ کسی فتنہ کے برپا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔حکیم بن جبلہ ڈاکو نے جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں جبراً پکڑ کر بٹھا 22 92