اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 87
لیں اور خط اس کے پاس دیکھ کر ان کو یقین ہو جاوے کہ حضرت عثمان نے ان سے فریب کیا ہے۔اس خط کا مضمون بھی بتا تا ہے کہ وہ خط جعلی ہے اور کسی واقف کار مسلمان کا بنایا ہوا نہیں۔کیونکہ بعض روایات میں اس کا یہ مضمون بتایا گیا ہے کہ فلاں فلاں کی ڈاڑھی منڈوائی جاوے حالانکہ ڈاڑھی منڈوانا اسلام کی رو سے منع ہے اور اسلامی حکومتوں میں سز ا صرف وہی دی جا سکتی تھی جو مطابق اسلام ہو۔یہ ہرگز جائز نہ تھا کہ کسی شخص کو سزا کے طور پر سور کھلایا جاوے یا شراب پلائی جاوے یا ڈاڑھی منڈوائی جاوے۔کیونکہ یہ ممنوع امر ہے۔سز ا صرف قتل یا ضرب یا جرمانہ یا نفی عن الارض کی اسلام سے ثابت ہے خواہ نفی بصورت جلا وطنی ہو یا بصورت قید۔اس کے سوا کوئی سزا اسلام سے ثابت نہیں اور نہ آئمہ اسلام نے کبھی ایسی سزادی۔نہ خود حضرت عثمان یا ان کے عمال نے کبھی کوئی ایسی سزادی۔پس ایسی سزا کا اس خط میں تحریر ہونا اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ یہ خط کسی ایسے شخص نے بنایا تھا جومغنز اسلام سے واقف نہ تھا۔اس خط سے پہلے کے واقعات بھی اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ یہ خط حضرت عثمان یا ان کے سیکرٹری کی طرف سے ہو کیونکہ تمام روایات اس امر پر متفق ہیں کہ حضرت عثمان نے ان لوگوں کو سزا دینے میں بہت ڈھیل سے کام لیا ہے۔اگر آپ چاہتے تو جس وقت یہ لوگ پہلی دفعہ آئے تھے اسی وقت ان کو قتل کر دیتے۔اگر اس دفعہ انہوں نے چھوڑ دیا تھا تو دوسری دفعہ آنے پر تو ضرور ہی ان سرغنوں کو گرفتار کیا جاسکتا تھا کیونکہ وہ کھلی کھلی سرکشی کر چکے تھے اور صحابہ ان سے لڑنے پر آمادہ تھے۔مگر اس وقت ان سے نرمی کر کے مصر 87