اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 74

حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان سے یہی وجہ اپنے آنے کی بیان کر کے اور اپنی نیک نیتی کا اظہار کر کے مدینہ میں آنے کی اجازت چاہی۔مگر ان تینوں اصحاب نے بھی ان کے فریب میں آنے سے انکار کیا اور صاف جواب دیا کہ ان کی اس کاروائی میں خیر نہیں ہے۔(طبری جلد ۶ صفحه ۲۹۵۶ مطبوعہ بیروت) یہ دونوں آدمی مدینہ کے حالات معلوم کر کے اور اپنے مقصد میں ناکام ہو کر جب واپس گئے اور سب حال سے اپنے ہمراہیوں کو آگاہ کیا تو کوفہ، بصرہ اور مصر تینوں علاقوں کے چند سر بر آوردہ آدمی آخری کوشش کرنے کے لئے مدینہ آئے۔اہل مصر عبد اللہ بن سبا کی تعلیم کے ماتحت حضرت علی کو وصی رسول اللہ خیال کرتے تھے اور ان کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار نہ تھے۔مگر اہل کوفہ اور اہل بصرہ گوفساد میں تو ان کے شریک تھے مگر مذہباً ان کے ہم خیال نہ تھے۔اور اہل کوفہ زبیر بن عوام اور اہل بصرہ طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کو اپنی اغراض کے لئے مفید سمجھتے تھے۔اس اختلاف کے باعث ہر ایک قافلہ کے قائم مقاموں نے الگ الگ ان اشخاص کا رُخ کیا جن کو وہ حضرت عثمان کے بعد مسند خلافت پر بٹھانا چاہتے تھے۔اہل مصر کا حضرت علی کے پاس جانا اہل مصر حضرت علی کے پاس گئے وہ اس وقت مدینہ سے باہر ایک حصہ لشکر کی کمان کر رہے تھے۔اور ان کا سر کچلنے پر آمادہ کھڑے تھے ان لوگوں نے آپ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بد انتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں۔ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لئے آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ان کے بعد اس عہدہ کو قبول 74