اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 66
کہ ارادہ یہ ہے کہ ہم مدینہ جا کر حضرت عثمان سے بعض ایسے امور کے متعلق گفتگو کریں گے جو پہلے سے ہم نے لوگوں کے دلوں میں بٹھا چھوڑے ہیں۔پھر ہم اپنے ملکوں کو واپس جاویں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ ہم نے حضرت عثمان پر بہت الزام لگائے اور ان کی سچائی ثابت کر دی۔مگر انہوں نے ان باتوں کے چھوڑنے سے انکار کر دیا اور توبہ نہیں کی۔پھر ہم حج کے بہانہ سے نکلیں گے اور مدینہ پہنچ کر آپ کا احاطہ کر لیں گے۔اگر آپ نے خلافت سے علیحدگی اختیار کر لی تب تو خیر ورنہ آپ کو قتل کر دیں گے۔سازش کا انکشاف یہ دونوں مخبر پوری طرح ان کا حال لیکر واپس گئے اور حضرت عثمان کوسب حال سے اطلاع دی۔آپ ان لوگوں کا حال سن کر ہنس پڑے اور خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی ! ان لوگوں کو گمراہی سے بچالے۔اگر تو نہ بچاوے گا تو یہ لوگ برباد ہو جاویں گے۔پھر ان تینوں شخصوں کی نسبت جو مدینہ والوں میں سے ان لوگوں کے ساتھ تھے فرمایا کہ عمار کو تو یہ غصہ ہے کہ اس نے عباس بن عتبہ بن ابی لہب پر حملہ کیا تھا اور اس کو زجر کی تھی۔اور محمد بن ابی بکر متکبر ہو گیا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اب اس پر کوئی قانون نہیں چلتا۔اور محمد بن ابی حذیفہ خواہ خواہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہا ہے۔پھر آپ نے ان مفسدوں کو بھی بلوایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بھی جمع کیا۔حضرت عثمان کا مفسدوں کو بلوانا جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ان لوگوں کو سب حال سنایا اور وہ دونوں مخبر بھی بطور گواہ کھڑے ہوئے۔اور گواہی دی۔اس پر سب صحابہ نے فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو 66