اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 61
کہ والی بدلا یا جاوے۔انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کسے چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ابو موسیٰ اشعری کو پسند کرتے ہیں۔ابو موسیٰ اشعری کا والی کوفہ مقرر ہونا حضرت عثمان نے فرمایا ہم نے ابو موسیٰ اشعری کو کوفہ کا والی مقرر کر دیا۔اور خدا کی قسم ہے ان لوگوں کو عذر کا کوئی موقع نہ دوں گا اور کوئی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں آنے دوں گا اور ان کی باتوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت صبر کروں گا یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے جس کا یہ ارادہ کرتے ہیں یعنی عثمان کے علیحدہ کرنے کا۔اس فتنہ نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ جھوٹ اور فریب سے کسی قسم کا پر ہیز نہیں رکھتے تھے۔مفسدوں کی سازشوں کا انکشاف مالک الاشتر کا جزیرہ سے بھاگے چلے آنا اور مدینہ سے آنے کا اظہار کرنا۔سعید بن العاص پر جھوٹا الزام لگانا اور شرمناک باتیں اپنے پاس سے بنا کر ان کی طرف منسوب کرنا ایسے امور نہیں ہیں جو ان مفسدوں کے اصل ارادوں اور مخفی خواہشوں کو چھپا رہنے دیں۔بلکہ ان باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اسلام سے بالکل کورے تھے۔اسلام جھوٹ کو جائز نہیں قرار دیتا اور فریب کاروادار نہیں۔اتہام لگانا اسلام میں ایک سخت جرم ہے۔مگر یہ اسلام کی محبت ظاہر کرنے والے اور اس کے لئے غیرت کا اظہار کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں۔اتہام لگاتے ہیں اور ان کاموں سے ان کو کوئی عار نہیں معلوم ہوتی۔پس ایسے لوگوں کا حضرت عثمان کے خلاف شور مچانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ کسی حقیقی نقص کی وجہ سے یہ شورش نہیں تھی بلکہ اسلام سے ڈوری اور بے دینی کا نتیجہ ہے۔61