اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 23

رُعب بھی تھا۔جیسا کہ اس وقت کا شاعر اس امر کی شعروں میں شہادت دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اے فاسقو ! عثمان کی حکومت میں لوگوں کا مال لوٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ ابن عفان وہ ہے جس کا تجربہ تم لوگ کر چکے ہو۔وہ لٹیروں کو قرآن کے احکام کے ماتحت قتل کرتا ہے اور ہمیشہ سے اس قرآن کریم کے احکام کی حفاظت کرنے والا اور لوگوں کے اعضاء وجوارح پر اس کے احکام جاری کرنے والا ہے۔(طبری جلد صفحه ۲۸۴۱ مطبوعہ بیروت) لیکن چھ سال کے بعد ساتویں سال ہمیں ایک تحریک نظر آتی ہے اور وہ تحریک حضرت عثمان کے خلاف نہیں بلکہ یا تو صحابہ کے خلاف ہے یا بعض گورنروں کے خلاف۔چنانچہ طبری بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کا حضرت عثمان پورا خیال رکھتے تھے۔مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت اور قدامت حاصل نہ تھی وہ سابقین اور قدیم مسلمانوں کے برابر نہ تو مجالس میں عزت پاتے اور نہ حکومت میں ان کو ان کے برابر حصہ ملتا اور نہ مال میں ان کے برابران کا حق ہوتا تھا۔اس پر کچھ مدت کے بعد بعض لوگ اس تفضیل پر گرفت کرنے لگے اور اسے ظلم قرار دینے لگے۔مگر یہ لوگ عامتہ المسلمین سے ڈرتے بھی تھے اور اس خوف سے کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے۔بلکہ انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا۔کہ خفیہ خفیہ صحابہ کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلاتے تھے اور جب کوئی ناواقف مسلمان یا کوئی بدوی غلام آزاد شدہ مل جاتا تو اس کے سامنے اپنی شکایات کا دفتر کھول بیٹھتے تھے اور اپنی نا واقفیت کی وجہ سے یا خود اپنے لئے حصول جاہ کی غرض سے کچھ لوگ ان کے ساتھ مل جاتے۔ہوتے ہوتے یہ گروہ تعداد میں زیادہ ہونے لگا اور اس کی ایک بڑی تعداد ہوگئی۔(مفہوما طبری جلد نمبر صفحه ۲۸۴۹-۲۸۵۰ مطبوعہ بیروت) 23