اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 22
طرح اونٹ چرایا جاتا ہے پہلے اونٹ پیدا ہوتا ہے پھر پٹھا بنتا ہے۔پھر دودانت کا ہوتا ہے۔پھر چار دانت کا ہوتا ہے۔پھر چھ دانت کا ہوتا ہے۔پھر اس کی کچلیاں نکل آتی ہیں۔اب بتاؤ کہ جس کی کچلیاں نکل آویں اس کے لئے سوائے ضعف کے اور کس امر کا انتظار کیا جاسکتا ہے۔سنو! اسلام اب اپنے کمال کی حد کو پہنچ گیا ہے۔قریش چاہتے ہیں کہ سب مال یہی لے جاویں اور دوسرے لوگ محروم رہ جاویں۔ھے سنو! جب تک عمر بن الخطاب زندہ ہے وہ قریش کا گلا پکڑے رکھے گا تا کہ وہ فتنہ کی آگ میں نہ گر جاویں۔(طبری جلد صفحه ۴۰۳۶۳۰۲۵ مطبوعہ بیروت) حضرت عمرؓ کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں ہی لوگوں میں صحابہ کے خلاف یہ خیالات موجزن دیکھتے تھے کہ ان کو حصہ زیادہ ملتا ہے۔اس لئے وہ سوائے چند ایسے صحابہ کے جن کے بغیر لشکروں کا کام نہیں چل سکتا تھا باقی صحابہ کو جہاد کے لئے نکلنے ہی نہیں دیتے تھے تا کہ دوہرے حصے ملنے سے لوگوں کو ابتلاء نہ آوے اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ اسلام ترقی کے اعلیٰ نقطہ پر پہنچ گیا ہے اور اب اس کے بعد زوال کا ہی خطرہ ہوسکتا ہے نہ ترقی کی امید۔اس قدر بیان کر چکنے کے بعد اب میں واقعات کا وہ سلسلہ بیان کرتا ہوں جس سے حضرت عثمان کے وقت میں جو کچھ اختلافات ہوئے ان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔میں نے بیان کیا تھا کہ حضرت عثمان کی شروع خلافت میں چھ سال تک ہمیں کوئی فساد نظر نہیں آتا۔بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر آپ سے خوش تھے۔(طبری جلد نمبر ۵ صفحه ۱۸۴۰ مطبوعہ بیروت) بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں وہ حضرت عمررؓ سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے۔صرف محبوب ہی نہ تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آپ کا 22 22