اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 18
توڑنے سے کچھ لوگ باز نہ رہتے۔اور جب حدود شریعت کو قائم کیا جاتا تو ناراض ہوتے اور خلیفہ اور اس کے عتمال پر اعتراض کرتے اور ان کے خلاف اپنے دل میں کینہ رکھتے اور اس انتظام کو سرے سے ہی اکھاڑ پھینک دینے کے منصوبے کرتے۔چوتھا سبب میرے نزدیک اس فتنہ کا یہ تھا کہ اسلام کی ترقی ایسے غیر معمولی طور پر ہوئی ہے کہ اس کے دشمن اس کا اندازہ شروع میں کر ہی نہ سکے۔مکہ والے بھی اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ضعف کے خیال میں ہی بیٹھے تھے کہ مکہ فتح ہو گیا اور اسلام جزیرہ عرب میں پھیل گیا۔اسلام کی اس بڑھنے والی طاقت کو قیصر روم اور کسری ایران ایسی حقارت آمیز اور تماش میں نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جیسے کہ ایک جابر پہلوان ایک گھٹنوں کے بل رینگنے والے بچہ کھڑے ہونے کے لئے پہلی کوشش کو دیکھتا ہے۔سلطنت ایران اور دولت یونان ضربت محمدی کے ایک ہی صدمہ سے پاش پاش ہوگئیں۔جب تک مسلمان ان جابر حکومتوں کا مقابلہ کر رہے تھے جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں سال سے بنی نوع انسان کو غلام بنا رکھا تھا اور اس کی قلیل التعداد بے سامان فوج دشمن کی کثیر التعداد با سامان فوج کے ساتھ برسر پیکار تھی۔اس وقت تک تو دشمنان اسلام یہ خیال کرتے رہے کہ مسلمانوں کی کامیابیاں عارضی ہیں اور عنقریب یہ لہر نیا رخ پھیرے گی۔اور یہ آندھی کی طرح اٹھنے والی قوم بگولے کی طرح اُڑ جائے گی۔مگر ان کی حیرت کی کچھ حد نہ رہی جب چند سال کے عرصہ میں مطلع صاف ہو گیا اور دنیا کے چاروں کونوں پر اسلامی پرچم لہرانے لگا یہ ایسی کامیابی تھی جس نے دشمن کی عقل مار دی اور وہ حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب گیا۔اور صحابہ اور ان کے صحبت یافتہ لوگ دشمنوں کی نظر میں 18