اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 16

گلے سے نہیں اترے گا۔اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانہ سے نکل جاتا ہے۔دوسری دفعہ ان خیالات کی دبی ہوئی آگ نے ایک شعلہ حضرت عمرہ کے وقت میں مارا جب کہ ایک شخص نے برسر مجلس کھڑے ہو کر حضرت عمر” جیسے بے نفس انسان اور امت محمدیہ کے اموال کے محافظ خلیفہ پر اعتراض کیا کہ یہ گرتا آپ نے کہاں سے بنوایا ہے۔مگر ان دونوں وقتوں میں اس فتنہ نے کوئی خوفناک صورت اختیار نہیں کی کیونکہ اس وقت تک اس کے نشونما پانے کے لئے کوئی تیار شدہ زمین نہ تھی۔اور نہ موسم ہی موافق تھا۔ہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں یہ دونوں باتیں میسر آگئیں اور یہ پودا جسے میں اختلال کا پودا کہوں گا ایک نہایت مضبوط تنے پر کھڑا ہو گیا اور حضرت علی کے وقت میں تو اس نے ایسی نشونما پائی کہ قریب تھا کہ تمام اقطار عالم میں اس کی شاخیں اپنا سایہ ڈالنے لگیں۔مگر حضرت علیؓ نے وقت پر اس کی مضرت کو پہچانا اور ایک کاری ہاتھ کے ساتھ اسے کاٹ کر گراد یا اور اگر وہ بالکل اسے مٹانہ سکے تو کم از کم اس کے دائرہ اثر کو انہوں نے بہت محدود کر دیا۔تیسرا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ اسلام کی نورانی شعاعوں کے اثر سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوں میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا تھا مگر اس اثر سے وہ کمی کسی طرح پوری نہیں ہو سکتی تھی جو ہمیشہ دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول کے لئے کسی معلم کا انسان کو محتاج بناتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب فوج در فوج آدمی داخل اسلام ہوئے تب بھی یہی خطرہ دامن گیر تھا۔مگر آپ سے خدا تعالیٰ کا خاص وعدہ تھا کہ اس ترقی 16