اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 10

کے لئے سخت مضر ثابت ہوا۔تیرہ سو برس گزر چکے ہیں مگر اب تک اس کا اثر امت اسلامیہ میں سے زائل نہیں ہوا۔فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اب سوال یہ ہے کہ یہ فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کا باعث بعض لوگوں نے حضرت عثمان کو قرار دیا ہے اور بعض نے حضرت علی کو۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بعض بدعتیں شروع کر دی تھیں جن سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا۔اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت علی نے خلافت کے لئے خفیہ کوشش شروع کر دی تھی اور حضرت عثمان کے خلاف مخالفت پیدا کر کے انہیں قتل کرا دیا تا کہ خود خلیفہ بن جائیں۔لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں نہ حضرت عثمان نے کوئی بدعت جاری کی اور نہ حضرت علی نے خود خلیفہ بننے کے لئے انہیں قتل کرایا یا ان کے قتل کے منصوبہ میں شریک ہوئے بلکہ اس فتنہ کی اور ہی وجوہات تھیں۔حضرت عثمان اور حضرت علی کا دامن اس قسم کے الزامات سے بالکل پاک ہے وہ نہایت مقدس انسان تھے۔حضرت عثمان" تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا۔( ترمذی ابواب المناقب باب مناقب عثمان بن عفان ) اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ خواہ وہ اسلام سے ہی برگشتہ ہو جائیں تو بھی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔بلکہ یہ تھا کہ ان میں اتنی خوبیاں پیدا ہوگئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ مکن ہی نہ رہا تھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔پس حضرت عثمان ایسے انسان نہ تھے کہ وہ کوئی خلاف شریعت بات جاری کرتے اور نہ حضرت علی ایسے انسان تھے کہ 10