اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 126
۱۔اس مضمون پر برائے اشاعت نظر ثانی کرتے وقت میں نے حاشیہ پر بعض ضروری تاریخی حوالجات دے دیئے ہیں اور مطالعہ کنندہ کتاب کو زیادہ مشقت سے بچانے کے لئے صرف تاریخ طبری کے حوالوں پر اکتفاء کی ہے۔الا ماشاء اللہ۔منہ ۲۔درحقیقت عشرہ مبشرہ ایک محاورہ ہو گیا ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بہت زیادہ صحابہؓ کی نسبت جنت کی بشارت دی ہے۔عشرہ مبشرہ سے دراصل وہ دس مہاجر مراد ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوری کے رکن تھے اور جن پر آپ کو خاص اعتماد تھا۔رض۔اسلامی تاریخ کے بعد کے واقعات سے یہ بات خوب اچھی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ صحابہ کا دخل کیسا مفید و با برکت تھا کیونکہ کچھ عرصہ کے لئے صحابہ کے دخل کو ہٹا کر خدا تعالیٰ نے بتایا کہ ان کے علیحدہ ہونے سے کیسے بُرے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اسلام کی تضحیک خود مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں اس عرصہ میں اس طرح ہوئی کہ دل ان حالات کو پڑھ کر خوف کھاتے ہیں اور جسموں میں لرزہ آتا ہے۔( مرزا محمود احمد ) ۴۔اس سے آپ کی دو غرضیں تھیں۔ایک تو یہ کہ مدینہ میں معلمین کی ایک جماعت موجود رہتی تھی اور دوسرے آپ کا خیال تھا کہ صحابہ کو چونکہ ان کے سابق بالا یمان ہونے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی خدمات کی وجہ سے بیت المال سے خاص حصے ملتے ہیں اگر یہ لوگ جنگوں میں شامل ہوئے تو ان کو اور حصے ملیں گے اور دوسرے لوگوں کو نا گوار ہوگا کہ سب مال انہی کو مل جاتا ہے۔ہ۔یعنی بحیثیت سابق ہونے کے بھی حصہ لیں اور اب بھی جہاد کر کے حصہ لیں تو 126