اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 127

دوسرے لوگ محروم رہ جائیں گے۔لَا تَأْكُلُو اَبَدًا جِيْرَانَكُمْ سَرَفًا أَهْلُ الدَّعَارَةِ فِي مُلْكِ ابْنِ عَفَّانَ إِنَّ ابْنَ عَفَّانَ الَّذِي جَرَّبْتُمْ فَطِمُ اللَّصُوْصِ بِحُكْمِ الْفُرْقَانِ مَازَالَ يَعْمَلُ بِالْكِتْبِ مُهَيْمِنًا فِي كُلِّ عُنْقٍ مِنْهُمْ وَ بَنَانِ ے۔جیسا کہ آگے ثابت کیا جاوے گا۔یہ اس کا جھوٹ تھا کہ مدینہ کے لوگ اس فتنہ سے محفوظ تھے۔بوقت نظر ثانی۔۔یہ پیشگوئی فتح مکہ کی ہے جسے بگاڑ کر اس شخص نے رجعت کا عقیدہ بنالیا۔چونکہ مکہ کی طرف لوگ بہ نیت حج اور حصول ثواب بار بار جاتے ہیں اس لئے اس کا نام بھی معاد ہے یعنی وہ جگہ جس کی طرف لوگ بار بار کو ٹتے ہیں۔و۔جہاں جلا وطن کر کے یہ لوگ بھیجے گئے تھے وہاں کے لوگوں کو خراب کرنے کا ان کو موقع نہ تھا کیونکہ وہاں خاص نگرانی اور نظر بندی کی حالت میں ان کو رکھا جاتا تھا۔۱۰۔حضرت معاویہؓ کے کلام اور ان لوگوں کے جواب سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان یا ان کے مقرر کردہ حکام سے ان لوگوں کو مخالفت نہ تھی بلکہ قریش سے ہی یا دوسرے لفظوں میں ایمان میں سابق لوگوں سے ہی ان کو حسد تھا۔اگر حضرت عثمان کی جگہ کوئی اور صحابی خلیفہ ہوتا۔اور ان کے مقرر کردہ والیوں کی جگہ کوئی اور والی ہوتے تو ان سے بھی یہ لوگ اسی طرح حسد کرتے کیونکہ ان کا مد عاصرف حصول جاہ تھا۔127