اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 123

لوگ نادم ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان پر ہلاکت ہو اور یہ آیت کریمہ پڑھی فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ تَوْصِيَةً وَّلَا إِلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُوْنَ (يس:۵۱) ان کو وصیت کرنے کی بھی توفیق نہ ملے گی۔اور وہ اپنے اہل وعیال کی طرف واپس نہ کوٹ سکیں گے۔اسی طرح جب حضرت علی کو اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی عثمان پر رحم فرمادے اور ان کے بعد ہمارے لئے کوئی بہتر جانشین مقررفرما وے اور جب ان سے بھی کہا گیا کہ اب تو وہ لوگ شرمندہ ہیں تو آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی كَمَثَلِ الشَّيْطَنِ اذْ قَالَ لِلْإِنْسانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِئُ : مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَلَمِينَ ( الحشر :۱۷) یعنی ان کی مثال اس شیطان کی ہے جولوگوں کو کہتا ہے کہ کفر کر وجب وہ کفر اختیار کر لیتے ہیں تو پھر کہتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں تو خدا سے ڈرتا ہوں۔جب ان لشکروں کو جو حضرت عثمان کی مدد کے لئے آرہے تھے معلوم ہوا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔تو وہ مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر سے ہی لوٹ گئے اور مدینہ کے اندر داخل ہونا انہوں نے پسند نہ کیا کیونکہ ان کے جانے سے حضرت عثمان کی تو کوئی مرد نہ ہوسکتی تھی اور خطرہ تھا کہ فساد زیادہ نہ بڑھ جاوے اور مسلمان عام طور پر بلا امام کے لڑنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔اب مدینہ انہیں لوگوں کے قبضہ میں رہ گیا اور ان ایام میں ان لوگوں نے جو حرکات کیں وہ نہایت حیرت انگیز ہیں۔حضرت عثمان کو شہید تو کر چکے تھے ان کی نعش کے دفن کرنے پر بھی ان کو اعتراض ہوا۔اور تین دن تک آپ کو دفن نہ کیا جا سکا آخر صحابہ کی ایک جماعت نے ہمت کر کے رات کے وقت آپ کو دفن کیا۔ان لوگوں کے راستہ میں بھی انہوں نے روکیں ڈالیں لیکن بعض لوگوں نے سختی سے ان کا مقابلہ کرنے کی دھمکی دی تو دب 123