اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 124

گئے۔حضرت عثمان کے دونوں غلاموں کی لاشوں کو باہر جنگل میں نکال کر ڈال دیا اور کتوں کو کھلا دیا۔(طبری جلد صفحہ ۴۹، مطبوعہ بیروت) نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ۔واقعات متذکرہ کا خلاصہ اور نتائج یہ وہ صحیح واقعات ہیں جو حضرت عثمان کے آخری ایام خلافت میں ہوئے ان کے معلوم کرنے کے بعد کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمان یا صحابہ کا ان فسادات میں کچھ بھی دخل تھا۔حضرت عثمان نے جس محبت اور جس اخلاص اور جس بُردباری سے اپنی خلافت کے آخری چھ سال میں کام لیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔خدائے پاک کے بندوں کے سوا اور کسی جماعت میں ایسی مثال نہیں مل سکتی۔وہ بے لوث مسند خلافت پر بیٹھے اور بے لوث ہی اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔ایسے خطر ناک اوقات میں جب کہ بڑے بڑے صابروں کا خون بھی جوش میں آجاتا ہے آپ نے ایسا رویہ اختیار کیا کہ آپ کے خون کے پیاسے آپ کے قتل کے لئے کوئی کمزور سے کمزور بہانہ بھی تلاش نہ کر سکے اور آخر اپنے ظالم ہونے اور حضرت عثمان کے بری ہونے کا اقرار کرتے ہوئے انہیں آپ پر تلوار اٹھانی پڑی۔اسی طرح ان واقعات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کو حضرت عثمان کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا۔وہ آخر دم تک وفاداری سے کام لیتے رہے اور جب کہ کسی قسم کی مدد کرنی بھی ان کے لئے ناممکن تھی تب بھی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آپ کی حفاظت کرتے رہے۔یہ بھی ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان فسادات میں حضرت عثمان کے انتخاب والیان کا بھی کچھ دخل نہ تھا اور نہ والیوں کے مظالم اس کا باعث تھے کیونکہ ان کا کوئی ظلم ثابت نہیں ہوتا حضرت علی اور طلحہ اور حضرت زبیر پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا بھی الزام رض 124