اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 115
ایسا ہی کروں گا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر بھی اس لڑائی میں شریک ہوئے اور بری طرح زخمی ہوئے۔مروان بھی سخت زخمی ہوا۔اور موت تک پہنچ کر لوٹا۔مغیرہ بن الاخنس مارے گئے۔جس شخص نے ان کو مارا تھا اس نے دیکھ کر کہ آپ زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ مارے گئے ہیں زور سے کہا کہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ سردار لشکر نے اسے ڈانٹا کہ اس خوشی کے موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہو۔اس نے کہا کہ آج رات میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ ایک شخص کہتا ہے مغیرہ کے قاتل کو دوزخ کی خبر دو۔پس یہ معلوم کر کے کہ میں ہی اس کا قاتل ہوں مجھے اس کا صدمہ ہونا لازمی تھا۔مذکورہ بالا لوگوں کے سوا اور لوگ بھی زخمی ہوئے اور مارے گئے اور حضرت عثمان کی حفاظت کرنے والی جماعت اور بھی کم ہو گئی۔لیکن اگر باغیوں نے باوجود آسمانی انذار کے اپنی ضد نہ چھوڑی اور خدا تعالیٰ کی محبوب جماعت کا مقابلہ جاری رکھا تو دوسری طرف مخلصین نے بھی اپنے ایمان کا اعلیٰ نمونہ دکھانے میں کمی نہ کی۔باوجود اس کے کہ اکثر محافظ مارے گئے یا زخمی ہو گئے پھر بھی ایک قلیل گروہ برابر دروازہ کی حفاظت کرتا رہا۔چونکہ باغیوں کو بظاہر غلبہ حاصل ہو چکا تھا۔انہوں نے آخری حیلہ کے طور پر پھر ایک شخص کو حضرت عثمان کی طرف بھیجا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر خود دست بردار ہو جاویں گے تو مسلمانوں کو انہیں سزا دینے کا کوئی حق اور موقع نہ رہے گا۔حضرت عثمان کے پاس جب پیغامبر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو جاہلیت میں بھی بدیوں سے پر ہیز کیا ہے اور اسلام میں بھی اس کے احکام کو نہیں تو ڑا۔میں 115