اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 114

تھے انہوں نے بھی اس دن رجز پڑھ پڑھ کر دشمن پر حملہ کیا۔ان کا اور محمد بن طلحہ کا اس دن کا رجز خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ ان سے ان کے دلی خیالات کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے۔حضرت امام حسن یہ شعر پڑھ کر باغیوں پر حملہ کرتے تھے۔لَادِيْنُهُمْ دِيْنِي وَلَا آنَا مِنْهُمْ حَتَّى آسِيْرَ إِلَى طَمَارِ شَمَامٍ طبری جلد ۲ صفحه ۱۴ ۳۰ مطبوعه بیروت) یعنی ان لوگوں کا دین میرا دین نہیں اور نہ ان لوگوں سے میرا کوئی تعلق ہے اور میں ان سے اس وقت تک لڑوں گا کہ شمام پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جاؤں۔شام عرب کا ایک پہاڑ ہے جس کو بلندی پر پہنچنے اور مقصد کے حصول سے مشابہت دیتے ہیں۔اور حضرت امام حسن کا یہ مطلب ہے کہ جب تک میں اپنے مدعا کو نہ پہنچ جاؤں اس وقت تک میں برابر ان سے لڑتا رہوں گا اور ان سے صلح نہ کروں گا۔کیونکہ ہم میں کوئی معمولی اختلاف نہیں کہ بغیر ان پر فتح پانے کے ہم ان سے تعلق قائم کر لیں یہ تو وہ خیالات ہیں جو اس شہزادہ صلح کے دل میں موجزن تھے۔اب ہم طلحہ کے لڑکے محمد کا رجز لیتے ہیں وہ کہتے ہیں: أَنَا ابْنُ مَنْ حَامَى عَلَيْهِ بِأَحَدٍ وَرَدَّ أَحْزَابَا عَلَىٰ رَغْمِ مَعَدٌ یعنی میں اس کا بیٹا ہوں جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت احد کے دن کی تھی اور جس نے باوجود اس کے کہ عربوں نے سارا زور لگایا تھا ان کو شکست دے دی تھی۔یعنی آج بھی احد کی طرح کا ایک واقعہ ہے اور جس طرح میرے والد نے اپنے ہاتھ کو تیروں سے چھلنی کروالیا تھا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آنچ نہ آنے دی تھی میں بھی 114