اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 113

خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھا ئیں گے۔بوجہ اپنی قلت تعداد اب مکان کے اندر کی طرف سے حفاظت کرتے تھے۔اور دروازہ تک پہنچنا با غیوں کے لئے مشکل نہ تھا۔انہوں نے دروازہ کے سامنے لکڑیوں کے انبار جمع کر کے آگ لگا دی تا کہ دروازہ جل جاوے اور اندر پہنچنے کا راستہ مل جاوے۔صحابہ نے اس بات کو دیکھا تو اندر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔تلواریں پکڑ کر باہر نکلنا چاہا مگر حضرت عثمان نے اس بات سے روکا اور فرمایا کہ گھر کو آگ لگانے کے بعد اور کون سی بات رہ گئی ہے۔اب جو ہونا تھا ہو چکا۔تم لوگ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو اور اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ان لوگوں کو صرف میری ذات سے عداوت ہے۔مگر جلد یہ لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے۔میں ہر ایک شخص کو جس پر میری اطاعت فرض ہے اس کے فرض سے سبکدوش کرتا ہوں اور اپنا حق معاف کرتا ہوں۔(طبری جلد صفحہ ۲۰۰۲ مطبوعہ بیروت ) مگر صحابہ نے اور دیگر لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور تلواریں پکڑ کر باہر نکلے۔ان کے باہر نکلتے وقت حضرت ابو ہریرہ بھی آگئے اور باوجود اس کے کہ وہ فوجی آدمی نہ تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔اور فرمایا کہ آج کے دن کی لڑائی سے بہتر اور کون سی لڑائی ہوسکتی ہے اور پھر باغیوں کی طرف دیکھ کر فرما یا قَوْمِ مَالِيَّ أَدْعُوكُمْ إِلَى النُّجُوةِ وَتَدْعُوْنَنِي إِلَى النَّارِ (المؤمن :۴۲) یعنی اے میری قوم! کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھ کو آگ کی طرف بلاتے ہو۔صحابہؓ کی مفسدوں سے لڑائی یلڑائی ایک خاص لڑائی تھی۔اور مٹھی بھر صحابہ جو اس وقت جمع ہو سکے انہوں نے اس لشکر عظیم کا مقابلہ جان تو ڑ کر کیا۔حضرت امام حسن جو نہایت صلح جو بلکہ صلح کے شہزادے 113