اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 111
کیوں نہ ہو تا سب دیکھ رہے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلائی ہوئی ایک شمع اب اس دنیا کی عمر کو پوری کر کے اس دنیا کے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہونے والی ہے۔غرض باغیوں نے زیادہ تعرض نہ کیا اور سب صحابہ جمع ہوئے۔جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ گھر کی دیوار پر چڑھے اور فرمایا میرے قریب ہو جاؤ۔جب سب قریب ہو گئے تو فرمایا کہ اے لوگو! بیٹھ جاؤ۔اس پر صحابہ بھی اور مجلس کی ہیبت سے متاثر ہو کر باغی بھی بیٹھ گئے۔جب سب بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل مدینہ! میں تم کوخدا تعالیٰ کے سپر د کرتا ہوں اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے بعد تمہارے لئے خلافت کا کوئی بہتر انتظام فرما دے۔آج کے بعد اس وقت تک کہ خدا تعالیٰ میرے متعلق کوئی فیصلہ فرمادے میں باہر نہیں نکلوں گا اور میں کسی کو کوئی ایسا اختیار نہیں دے جاؤں گا کہ جس کے ذریعہ سے دین یا دنیا میں وہ تم پر حکومت کرے۔اور اس امر کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں گا کہ وہ جسے چاہے اپنے کام کے لئے پسند کرے۔اس کے بعد صحابہ و دیگر اہل مدینہ کو قسم دی کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطرہ عظیم میں نہ ڈالیں اور اپنے گھروں کو چلے جاویں۔آپ کے اس حکم نے صحابہ میں ایک بہت بڑا اختلاف پیدا کر دیا۔ایسا اختلاف کہ جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔صحابہ حکم ماننے کے سوا اور کچھ جانتے ہی نہ تھے۔مگر آج اس حکم کے ماننے میں ان میں سے بعض کو اطاعت نہیں غداری کی بو نظر آتی تھی۔بعض صحابہ نے تو اطاعت کے پہلو کو مقدم سمجھ کر بادل ناخواستہ آئندہ کے لئے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا اور غالباً انہوں نے سمجھا کہ ہمارا کام صرف اطاعت ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس حکم پر عمل کرنے کے کیا نتائج ہوں گے مگر بعض صحابہ نے اس حکم کو 111