اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 107
اوّل الذکر جماعت میں سے حضرت علی اور حضرت سعد بن وقاص فاتح فارس فتنہ کے کم کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں تھے۔خصوصاً حضرت علی تو اس فتنہ کے ایام میں اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کام میں لگ گئے تھے چنانچہ ان واقعات کی رؤیت کے گواہوں میں سے ایک شخص عبد الرحمن نامی بیان کرتا ہے کہ ان ایام فتنہ میں میں نے دیکھا ہے کہ حضرت علی نے اپنے تمام کام چھوڑ دیئے تھے اور حضرت عثمان کے دشمنوں کا غضب ٹھنڈا کرنے اور آپ کی تکالیف دور کرنے کی فکر میں ہی رات دن لگے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ تک پانی پہنچنے میں کچھ دیر ہوئی تو حضرت طلحہ" پر جن کے سپرد یہ کام تھا آپ سخت ناراض ہوئے اور اس وقت تک آرام نہ کیا جب تک پانی حضرت عثمان کے گھر میں پہنچ نہ گیا۔دوسرا گروہ ایک ایک، دو دو کر کے جس جس وقت موقع ملتا تھا تلاش کر کے حضرت عثمان یا آپ کے ہمسایہ گھروں میں جمع ہونا شروع ہوا۔اور اس نے اس امر کا پختہ ارادہ کر لیا کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر حضرت عثمان کی جان پر آنچ نہ آنے دیں گے۔اس گروہ میں حضرت علی ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی اولاد کے سوائے خود صحابہ میں سے بھی ایک جماعت شامل تھی۔یہ لوگ رات اور دن حضرت عثمان کے مکان کی حفاظت کرتے تھے اور آپ تک کسی دشمن کو پہنچنے نہ دیتے تھے۔اور گویہ قلیل تعداد اس قدر کثیر لشکر کا مقابلہ تو نہ کرسکتی تھی مگر چونکہ باغی چاہتے تھے کوئی بہانہ رکھ کر حضرت عثمان کو قتل کریں وہ بھی اس قدر زور نہ دیتے تھے۔اس وقت کے حالات سے حضرت عثمان کی اسلامی خیر خواہی پر جو روشنی پڑتی ہے اس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تین ہزار کے قریب لشکر آپ کے دروازہ کے سامنے پڑا ہے اور کوئی تدبیر اس سے بچنے کی نہیں۔مگر جولوگ آپ کو بچانے 107