اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 104

ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَستَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرَضِ ( النور : ۵۶) اور اتفاق کی قدر نہیں کی۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وَاعْتَصِمُوْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيْعًا (ال عمران : ۱۰۳) اور مجھ پر الزام لگانے والوں کی باتوں کو قبول کیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی پرواہ نہ کی کہ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا إِنْ جَاءَ كُمْ فَاسِقُ بِنَبَافَتَبَيَّنُوْا (الحجرات : 4 ) اور میری بیعت کا ادب نہیں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يُبَا بِعُوْنَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ (الفتح : 11) اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوں۔کوئی امت بغیر سردار کے ترقی نہیں کر سکتی اور اگر کوئی امام نہ ہو تو جماعت کا تمام کام خراب و بر باد ہو جائے گا۔یہ لوگ امت اسلامیہ کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں۔اور اس کے سوا ان کی کوئی غرض نہیں۔کیونکہ میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا تھا اور والیوں کے بدلنے کا وعدہ کر لیا تھا۔مگر انہوں نے اس پر بھی شرارت نہ چھوڑی۔اب یہ تین باتوں میں سے ایک کا مطالبہ کرتے ہیں۔اول یہ کہ جن لوگوں کو میرے عہد میں سزا ملی ہے ان سب کا قصاص مجھ سے لیا جاوے۔اگر یہ مجھے منظور نہ ہو تو پھر خلافت کو چھوڑ دوں اور یہ لوگ میری جگہ کسی اور کو مقرر کر دیں۔یہ بھی نہ مانوں تو پھر یہ لوگ دھمکی دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے تمام ہم خیال لوگوں کو پیغام بھیجیں گے کہ وہ میری اطاعت سے باہر ہو جائیں۔پہلی بات کا تو یہ جواب ہے کہ مجھ سے پہلے خلفاء" بھی کبھی فیصلوں میں غلطی کرتے تھے مگر ان کو کبھی سزا نہ دی گئی اور اس قدر سزائیں مجھ پر جاری کرنے کا مطلب سوائے مجھے مارنے کے اور کیا ہوسکتا ہے۔خلافت سے معزول ہونے کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر یہ لوگ موچنوں 104