اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 103

اور مدینہ سے نکل سکے مدینہ سے تشریف لے گئے اور باقی لوگ سوائے چندا کا بر صحابہؓ کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور آخر حضرت عثمان کو بھی یہ محسوس ہو گیا کہ یہ لوگ نرمی سے مان نہیں سکتے اور آپ نے ایک خط تمام والیان صوبہ جات کے نام روانہ کیا جس کا خلاصہ یہ تھا۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے بعد ہلا کسی خواہش یا درخواست کے مجھے ان لوگوں میں شامل کیا گیا تھا جنہیں خلافت کے متعلق مشورہ کرنے کا کام سپر د کیا گیا تھا۔پھر ہلا میری خواہش یا سوال کے مجھے خلافت کے لئے چنا گیا اور میں برابر وہ کام کرتا رہا جو مجھے سے پہلے خلفاء کرتے رہے اور میں نے اپنے پاس سے کوئی بدعت نہیں نکالی۔لیکن چند لوگوں کے دلوں میں بدی کا بیج بویا گیا اور شرارت جاگزیں ہوئی اور انہوں نے میرے خلاف منصوبے کرنے شروع کر دیئے۔اور لوگوں کے سامنے کچھ ظاہر کیا اور دل میں کچھ اور رکھا اور مجھ پر وہ الزام لگانے شروع کئے جو مجھ سے پہلے خلفاء" پر بھی لگتے تھے۔لیکن میں معلوم ہوتے ہوئے خاموش رہا۔اور یہ لوگ میرے رحم سے ناجائز فائدہ اٹھا کر شرارت میں اور بھی بڑھ گئے۔اور آخر کفار کی طرح مدینہ پر حملہ کر دیا۔پس آپ لوگ اگر کچھ کرسکیں تو مدد کا انتظام کریں۔اسی طرح ایک خط جس کا خلاصہ مطلب ذیل میں درج ہے حج پر آنے والوں کے نام لکھ کر کچھ دن بعد روانہ کیا۔حضرت عثمان کا حاجیوں کے نام خط میں آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اس کے انعامات یا دلاتا ہوں۔اس وقت کچھ لوگ فتنہ پردازی کر رہے ہیں اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں مشغول ہیں۔مگر ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا 103