اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 97

وقت مدینہ میں نہیں تھا۔طبری جلد ۶ صفحه ۳۰۲۹ مطبوعه بیروت) تیسرے شخص عمار بن یاسر تھے یہ صحابہ میں سے تھے اور ان کے دھوکا کھانے کی وجہ یہ تھی کہ یہ سیاست سے باخبر نہ تھے۔جب حضرت عثمان نے ان کو مصر بھیجا کہ وہاں کے والی کے انتظام کے متعلق رپورٹ کریں تو عبد اللہ بن سبانے ان کا استقبال کر کے ان کے خیالات کو مصر کے گورنر کے خلاف کر دیا۔اور چونکہ وہ گورنر ایسے لوگوں میں سے تھا۔جنہوں نے ایام کفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لایا تھا۔اس لئے آپ بہت جلد ان لوگوں کے قبضہ میں آگئے۔والی کے خلاف بدظنی پیدا کرنے کے بعد آہستہ آہستہ حضرت عثمان " پر بھی انہوں نے ان کو بدظن کر دیا۔مگر انہوں نے عملاً فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔کیونکہ باوجود اس کے کہ مدینہ پر حملہ کے وقت یہ مدینہ میں موجود تھے سوائے اس کے کہ اپنے گھر میں خاموش بیٹھے رہے ہوں اور ان مفسدوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے کوئی حصہ نہ لیا ہو عملی طور پر انہوں نے فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔اور ان مفسدوں کی بداعمالیوں سے ان کا دامن بالکل پاک ہے۔حضرت عثمان کو خلافت سے دست برداری کیلئے مجبور کیا جانا ان تین کے سوا باقی کوئی شخص اہل مدینہ میں سے صحابی ہو یا غیر صحابی ان مفسدوں کا ہمدرد نہ تھا۔اور ہر ایک شخص ان پر لعنت ملامت کرتا تھا۔مگر ان کے ہاتھ میں اس وقت سب انتظام تھا یہ کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ہیں دن تک یہ لوگ صرف زبانی طور پر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حضرت عثمان” خلافت سے دست بردار ہوجائیں۔مگر حضرت عثمان نے اس امر سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جو تمیض مجھے خدا تعالیٰ نے 97