اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 88
کے والی کو خط لکھنا کہ ان کو سزا دے ایک بعید از عقل خیال ہے۔اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت عثمان کی نرمی کو دیکھ کر مروان نے ایسا خط لکھ دیا کیونکہ مروان یہ خوب جانتا تھا کہ حضرت عثمان حدود کے قیام میں بہت سخت ہیں۔وہ ایسا خط لکھ کر سزا سے محفوظ رہنے کا خیال ایک منٹ کے لئے بھی اپنے دل میں نہیں لاسکتا تھا۔پھر اگر وہ ایسا خط لکھتا بھی تو کیوں صرف مصر کے والی کے نام لکھتا۔کیوں نہ بصرہ اور کوفہ کے والیوں کے نام بھی وہ ایسے خطوط لکھ دیتا۔جس سے سب دشمنوں کا ایک دفعہ ہی فیصلہ ہو جاتا۔صرف مصر کے والی کے نام ہی خط لکھا جانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کوفہ اور بصرہ کے قافلوں میں کوئی عبد اللہ بن سبا جیسا چال باز آدمی نہ تھا۔اگر یہ کہا جائے کہ شاید ان دونوں علاقوں کے والیوں کے نام بھی ایسے احکام جاری کئے گئے ہوں گے مگر ان کے لے جانے والے پکڑے نہیں گئے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔کیونکہ اگر عبد اللہ بن عامر پر یہ الزام لگا دیا جاوے کہ وہ حضرت عثمان کا رشتہ دار ہونے کے سبب خاموش رہا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری جو اکابر صحابہ میں سے تھے اور جن کے کامل الایمان ہونے کا ذکر خود قرآن شریف میں آتا ہے اور جو اس وقت کوفہ کے والی تھے وہ کبھی خاموش نہ رہتے اور ضرور بات کو کھول دیتے۔پس حق یہی ہے کہ یہ خط جعلی تھا اور مصری قافلہ میں سے کسی نے بنایا تھا۔اور چونکہ مصری قافلہ کے سوا دوسرے قافلوں میں کوئی شخص نہ اس قسم کی کاروائی کرنے کا اہل تھا اور نہ اس قدر عرصہ میں متعدد اونٹ بیت المال کے کرائے جا سکتے تھے اور نہ ہی اس قدر غلام قابو کئے جاسکتے تھے۔اس لئے دوسرے علاقوں کے والیوں کے نام کے خطوط نہ بنائے گئے۔88 88