اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 51
سبقت ایمانی اور غیر اسلامی اور حریت اور تقویٰ و زہد ایسے کمالات تھے کہ ان کے سامنے معاویہ دم نہ مار سکتے تھے اور نہ ایسے شخص کی موجودگی میں حضرت معاویہؓ کا رُعب کسی شخص پر پڑ سکتا تھا۔غرض جو لوگ تحقیق کے لئے بھیجے گئے تھے وہ نہایت عظیم الشان اور بے تعلق لوگ تھے اور ان کی تحقیق پر کسی شخص کو اعتراض کی گنجائش حاصل نہیں پس ان تینوں صحابہ کا مع ان دیگر آدمیوں کے جو دوسرے بلاد میں بھیجے گئے متفقہ طور پر فیصلہ دینا کہ ملک میں بالکل امن وامان ہے۔ظلم و تعدی کا نام ونشان نہیں۔حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو یہ کہ لوگوں کو حدود کے اندر رہنے پر مجبور کرتے ہیں ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فساد چند شریر النفس آدمیوں کی شرارت و عبد اللہ بن سبا کی انگیخت کا نتیجہ تھا۔ورنہ حضرت عثمان اور ان کے نواب ہر قسم کے اعتراضات سے پاک تھے۔حق یہی ہے کہ یہ سب شورش ایک خفیہ منصوبہ کا نتیجہ تھی جس کے اصل بانی یہودی تھے۔جن کے ساتھ طمع دنیاوی میں مبتلاء بعض مسلمان جو دین سے نکل چکے تھے شامل ہو گئے تھے ورنہ امرائے بلا د کا نہ کوئی قصور تھا نہ وہ اس فتنہ کے باعث تھے۔ان کا صرف اسی قدر قصور تھا کہ ان کو حضرت عثمان نے اس کام کے لئے مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان کا یہ قصور تھا کہ باوجود پیرانہ سالی اور نقاہت بدنی کے اتحاد اسلام کی رسی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے تھے اور امت اسلامیہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے تھے اور شریعت اسلام کے قیام کی فکر رکھتے تھے۔اور متمر دین اور ظالموں کو اپنی حسب خواہش کمزوروں اور 51