اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 102
نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرتے ہوئے ان کے دین کی تباہی کا بیڑا اٹھایا تھا نہ ام المؤمنین ام حبیبہ۔(طبری جلد صفحه ۰۲۹ مطبوعہ بیروت) حضرت عائشہ کی حج کے لئے تیاری حضرت اُمّ حبیبہ کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا تھا۔جب اس کی خبر مدینہ میں پھیلی تو صحابہ اور اہل مدینہ حیران رہ گئے اور سمجھ لیا کہ اب ان لوگوں سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنی فضول ہے۔حضرت عائشہ نے اسی وقت حج کا ارادہ کر لیا اور سفر کی تیاری شروع کر دی۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ مدینہ سے جانے والی ہیں تو بعض نے آپ سے درخواست کی کہ اگر آپ یہیں ٹھہریں تو شاید فتنہ کے روکنے میں کوئی مدد ملے اور باغیوں پر کچھ اثر ہو۔مگر انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھ سے بھی وہی سلوک ہو جو ام حبیبہ سے ہوا ہے خدا کی قسم ! میں اپنی عزت کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتی ( کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت تھی ) اگر کسی قسم کا معاملہ مجھ سے کیا گیا۔تو میری حفاظت کا کیا سامان ہوگا خدا ہی جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں میں کہاں تک ترقی کریں گے اور ان کا کیا انجام ہوگا۔حضرت عائشہ صدیقہ نے چلتے چلتے ایک ایسی تدبیر کی جو اگر کارگر ہو جاتی تو شاید فساد میں کچھ کمی ہو جاتی۔اور وہ یہ کہ اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو کہلا بھیجا کہ تم بھی میرے ساتھ حج کو چلو مگر اس نے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا۔کیا کروں بے بس ہوں۔اگر میری طاقت ہوتی تو ان لوگوں کو اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہ ہونے دیتی۔حضرت عثمان کا والیان صوبہ جات کو مراسلہ حضرت عائشہ تو حج کو تشریف لے گئیں اور بعض صحابہؓ بھی جن سے ممکن ہو سکا 102