اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 402
402 سے آنحضرت علا تعلیم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے یہ مبارک ارادہ فرمایا کہ غیب سے اسلام کی نصرت کا انتظام فرمایا اور ایک سلسلہ کو قائم کیا۔میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اپنے دل میں اسلام کے لئے ایک دردر کھتے ہیں اور اس کی عزت اور وقعت ان کے دلوں میں ہے وہ بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ اس سے بڑھ کر اسلام پر گزرا ہے جس میں اس قدرسب و شتم اور تو ہین آنحضرتعالی کی کی گئی ہو۔اور قرآن شریف کی ہتک ہوئی ہو؟ پھر مجھے مسلمانوں کی حالت پر سخت افسوس اور دلی رنج ہوتا ہے اور بعض وقت میں اس درد سے بے قرار ہو جاتا ہوں کہ ان میں اتنی حس بھی باقی نہ رہی کہ اس بے عزتی کو محسوس کرلیں۔کیا آنحضرت علیم کی کچھ بھی عزت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی جو اس قدر سب و شتم پر بھی وہ کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا اور ان مخالفین اسلام کے منہ بند کر کے آپ کی عظمت اور پاکیزگی کو دنیا میں پھیلا تا۔جب کہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آنحضرت صلیم پر درود بھیجتے ہیں کہ اس تو ہین کے وقت میں اس صلوۃ 66 کا اظہار کس قدر ضروری ہے اور اس کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے کی صورت میں کیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 8-9) جماعت احمد یہ ڈنمارک نے لوکل سطح پر بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔مکرم نعمت اللہ بشارت صاحب نے ایک احمدی دوست مکرم خرم جمیل صاحب کی معاونت سے ڈیمینش زبان میں ایک مضمون تیار کر کے حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بغرض راہنمائی بھجوایا۔حضور کی ہدایت پر یہ احتجاجی مضمون اشاعت کے لئے اخبار کو بھیجا گیا جو یولینڈ پوسٹن میں 13اکتوبر 2005ء کے صفحہ 7 پر شائع ہوا۔اس کے علاوہ مورخہ 21 نومبر 2005ء کو جماعت احمدیہ ڈنمارک کے دور کنی وفد نے وزیر مملکت برائے پناہ گزین، غیر ملکی اور امیگریشن Miss Rikke Hveisht سے ملاقات کر کے جماعت کے موقف سے آگاہ کیا۔اسی