اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 40
40 40 راقم خاکسار خادم دین مصطفے غلام احمد قادیانی ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۵۰ تا ۱۶۰ مطبوعہ لندن اپریل ۱۹۸۶ء) اس نوٹس کے صفحہ نمبر ۱۵۰ تا ۱۵۴ پر حاشیہ درج ہے کہ پادری صاحبان اگر ہماری نصیحت کو غور سے سنیں تو بیشک اپنی بزرگی اور شرافت ہم پر ثابت کریں اور اس حق پسندی اور صلح کاری کے موجب ہونگے جس سے ایک پاک دل اور راستباز شناخت کیا جاتا ہے اور وہ نصیحت صرف دو باتیں ہیں جو ہم پادری صاحبوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔اوّل۔یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنی طرف سے نہ گھڑ لیا کریں۔بلکہ وہی معنی کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگر چہ انجیل کے معنی کرنے کے وقت ہر یک بے قیدی کے مجاز ہوں مگر ہم مجاز نہیں ہیں۔اور انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے۔قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر کریں تو اس طور سے کرنے چاہئے که دوسری قرآنی آمیتیں ان معنوں کی مؤید اور تفسیر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں۔اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول الله صل علیم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو۔کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے معنی جانتا ہے۔غرض اتم