اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 39
39 ہمارے سامنے ہر گز پیش نہ کریں اور نہ شائع کریں۔جیسا کہ یہ خائنانہ کاروائیاں پہلے اس سے ہندؤں میں سے اندر من مراد آبادی نے اپنی کتابوں تحفہ اسلام و پاداش اسلام وغیرہ میں دکھلائیں۔اور پھر بعد اس کے یہ نا پاک حرکتیں مسمی لیکھر ام پیشاوری نے جو محض نادان اور بے ہے اپنی کتاب تکذیب براہین اور رسالہ جہاد اسلام میں کیں۔اور جیسا کہ یہی بیہودہ کاروائیاں پادری عماد الدین نے اپنی کتابوں میں اور پادری ٹھا کر داس نے اپنے رسائل میں اور صفدر علی وغیرہ نے اپنی تحریروں میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کیں۔اور سخت دھو کہ دیدے کر ایک دنیا کو گندگی اور کیچڑ میں ڈال دیا۔اور اگر آپ لوگ اب بھی یعنی اس نوٹس کے جاری ہونے کے بعد بھی اپنی خیانت پیشہ طبیعت اور عادت سے باز نہیں آئیں گے تو دیکھو ہم آپ کو بلا بلا کر متنبہ کرتے ہیں کہ اب یہ حرکت آپ کی صحت نیت کے خلاف سمجھی جائے گی اور محض دلآزاری اور توہین کی مد میں متصور ہو گی۔اور اس صورت میں ہمیں استحقاق ہوگا کہ عدالت سے اس افتراء اور تو بین اور دلآزاری کی چارہ جوئی کریں اور دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند کی رو سے آپ کو ماخوذ کرائیں اور قانون کی حد تک سزا دلائیں۔کیونکہ اس نوٹس کے بعد آپ اپنی ناواقفی اور صحت نیت کا عذر پیش نہیں کر سکتے۔اور آپ سب صاحبوں کو بھی اختیار ہوگا کہ اپنی مقبولہ مسلمہ کتابوں کا اشتہار دے دیں۔اور بعد اس کے اگر کوئی مسلمان معترض اپنے اشتہار میں آپ کے اشتہار کا پابند نہ ہو اور کوئی ایسا اعتراض کرے کہ جو ان کتابوں کی بنا پر نہ ہو جن کے مقبول ہونے کی نسبت آپ اشتہار دے چکے ہیں۔یا کوئی ایسا امر مورد اعتراض ٹھہراوے جو خود اسلامی تعلیم میں موجود ہے تو بے شک ایسا معترض مسلمان بھی آپ لوگوں کے اشتہار کے بعد اسی دفعہ ۲۹۸ کی رو سے سزا پانے کے لائق ہوگا جس دفعہ سے ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔اب ذیل میں اس نوٹس دینے والوں کے دستخط اور مواہیر ہیں۔فقط