اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 358
358 پڑی۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توہین رسالت کرنے والوں کو اسی رنگ میں جواب دیا جس رنگ میں انہوں نے توہین کی تھی اس کے بعد بشپ صاحب نے ایسے اشتہارات دینے اور ایسی تقاریر کرنے سے اپنے آپ کو باز رکھا۔کتاب دینا بیع الاسلام‘ کا جواب درج بالا عنوان سے ایک پادری صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ قرآن کریم سابقہ کتب کا سرقہ ہے۔اس کتاب پر بانس بریلی کے ایک مسلمان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھ کر اپنے شک کا اظہار کیا۔اس کتاب کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب چشمہ مسیحی تصنیف فرمائی اور یہ بتایا کہ جو الزام پادیوں کی طرف سے قرآن کریم پر کیا گیا ہے صبح کی انجیل پر بھی ہندؤوں اور بدھ مذہب والوں کا یہی اعتراض ہے کہ یہ بھی ان کی کتب کا سرقہ ہے۔اور حضور نے یہ بات بھی بیان فرمائی کہ اگر قرآن کریم کا کوئی حصہ قدیم نوشتوں سے ملتا ہے تو یہ وحی الہی میں توارد ہے۔ورنہ آنحضرت علی شمالی کی تو امی تھے یونانی اور عبرانی نہیں پڑھ سکتے تھے۔جبکہ قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے اور زندہ معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس میں پیش گزشتہ زمانہ کی خبریں اور قصے اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتے ہیں۔اور اس کی فصاحت و بلاغت کا بھی ایسا معجزہ ہے جس کی آج تک بھی کوئی نظیر نہیں ملتی۔اس کتاب میں آپ نے تحریر فرمایا۔”ہمارے نبی صلیم اور ہمارے سید و مولی ( اس پر ہزار سلام ) اپنے افاضہ کی رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں کیونکہ گزشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہو گیا اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مردے ہیں۔کوئی ان میں زندگی نہیں مگر آنحضرت علیم کا روحانی فیضان قیامت تک جاری ہے اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس امت کے لئے