اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 352
352 شروع کئے اور ہر جگہ یسوع کی آنحضرت صلیم پر برتری بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تو بین رسالت بھی کرتے۔اور وہ زمانہ ایسا تھا کہ پادری تو ریت کو ہاتھوں میں لے کر مسلمانوں کو چیلنج کرتے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ اسلام جھوٹا مذہب اور نعوذ باللہ آنحضرت میلیم جھوٹے نبی ہیں اس پر جگہ جگہ مناظرے کرنے کے چیلنج کرتے۔ادھر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام اور آنحضرت میللی لیلی کی صداقت کو ساری دنیا میں ظاہر کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔اسی دور میں جب پادری اسلام اور آنحضرت علی ایلیا کے خلاف کتابیں لکھ رہے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ان کی کتابوں اور اعتراضات کے جواب میں کتابیں لکھیں جس میں حقیقی جوابات کے ساتھ ساتھ الزامی جوابات بھی دئے گئے تھے۔پادریوں کے اسلام پر اعتراضات کے جواب میں آپ نے جو الزامی جوابات دئے عیسائیوں اور کم عقل مسلمانوں نے بھی اعتراض کرنے شروع کر دئے جس پر آپ نے فرمایا۔”ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اہلیہ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔(ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292-293 حاشیہ ) نیز فرمایا۔اگر پادری اب بھی پالیسی بدل دیں اور عہد کریں کہ آئندہ ہمارے نبی نبیل شام کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی ورنہ جو 66 کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔“ ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292 حاشیه در حاشیه )