اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 331
331 عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔اس نے ھلاکت کی پیشگوئیوں مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔( کرزن گزٹ دہلی مورخہ یکم جون ۱۹۰۸) اسی طرح اخبار وکیل نے لکھا و شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جود ما فی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی انگلیوں میں انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔۔۔۔مرزا غلام احمد قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے۔شخص جن سے مذہبی و عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عام پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر ہاں مسلمانوں کو تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کر دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات کے ساتھ وابسطہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے۔۔۔۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج