اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 332
332 جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔“ ( اخبارہ کیل امرتسر ) اسی طرح سید حبیب احمد صاحب سابق مدیر سیاست اپنی کتاب تحریک قادیان میں لکھتے ہیں۔اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔اسے ڈسے جو عالم - دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آر یہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کرلیا۔میں مرزا صاحب کے ادعائے نبوت وغیرہ کی قلعی کھول چکا ہوں لیکن بقولیکہ ع عیب دی جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو۔مجھے یہ کہنے میں زرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئے۔اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لا جواب ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متأثر ہو کر نبوت کا دعویٰ نہ کرتے تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے۔لیکن افسوس کہ جس کی ابتداء اچھی تھی انتہاء وہ نہ رہی جو ہونا چاہئے تھی۔‘“ (تحریک قادیان صفحہ 210) حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے جب کتاب برا بین احمد یہ تصنیف فرمائی جو تمام مخالفین اسلام کے لئے ایک چیلنج تھی اس کی اشاعت پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے جور یو یولکھا وہ بھی آپ علیہ السلام کی خدمت اسلام پر ایک دال ہے۔لکھتے ہیں ”ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔۔۔اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و