اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 294
294 کتاب میں درج کر دیا ہے ( البتہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے اس کو اپنی کتاب میں نہیں لیا ) اس پر کوئی تحقیق پیش نہیں کی گئی اور اس بات کو پر کھا تک نہیں گیا کہ واقدی جو کہ رہے ہیں اس میں صداقت کس قدر ہے۔اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر اس واقعہ کو درست مان بھی لیا جائے تو بھی یہ واقعہ اس بات کی شہادت نہیں بن سکتا کہ اسلام میں تو ہین رسالت کرنے والے کی سز اقتل ہے۔کیونکہ جس طرح سے اس واقعہ کو پیش کیا گیا ہے اس سے یہ بات تو نظر آتی ہے کہ یہ ایک شخص کا ذاتی فعل ہے جو کہ اس کی اپنی ذات کی حد تک ہوسکتا ہے۔یہ واقعہ نہ تو آنحضرت صل للہ علیم کے سامنے پیش ہوا اور نہ ہی آپ نے اسے جائز ٹھہرایا اس بات کا کہیں ذکر تک بھی نہیں ملتا۔بلکہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قتل کی کان و کان کسی کو خبر نہ ہوئی ور نہ قاتل مارا جا تا۔الغرض یہ سارا قصہ ہی فرضی اور بناوٹی دکھائی دیتا ہے اس کے علاوہ الصارم المسلول کتاب کے مصنف نے اپنی کتاب میں بعض ایسے اشخاص کو بھی قتل کرنے کے حکم کے بارے میں لکھا ہے جن کے بارے میں دوسرے مؤرخین خاموش ہیں اور کوئی سند بھی نہیں ملتی جس میں ایک نام ابن الزبعری کا لکھا ہے اور دوسرا ابوسفیان بن حارث کا۔اور ساتھ ہی یہ بات بھی بیان کی ہے کہ ان دونوں کو معافی دیدی گئی تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تو بین رسالت کرنے والے کی سزا قتل ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے تو پھر ان لوگوں کو معافی کیوں دی گئی؟ معاف کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں تو بین رسالت کرنے والے کی سزا قتل نہیں ہے اور نہ رسول کریم ہال کی ایسی گستاخی کرنے والوں کو کبھی معاف نہ فرماتے۔