اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 293 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 293

293 ۱۰ امام ابن تیمیہ نے ایک دلیل واقعہ قتل ابو ملک یہودی سے دی ہے لکھا ہی کہ " کہتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے۔وہ نہایت بوڑھا تھا اور اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔یہ شخص مدینہ آکرلوگوں کو رسول کریم عالم کی عداوت پر بھڑکا تا تھا۔اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔جب رسول کریم علیہ بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا۔اس نے رسول کریم علیم اور صحابہ رضی اللہ عنھم کی مذمت میں ایک تو بین والا قصیدہ کہا۔سالم بن عمیر نے نذرمانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔سالم موقعہ کی تلاش میں تھا، موسم گرما کی ایک رات تھی ، ابو عفک موسم گرما میں قبیلہ بنی عوف کے صحن میں سور ہا تھا اندریں اثنا سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی دشمن خدا بستر پر چینے لگا۔اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے ، پہلے اسے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کر دیا۔کہنے لگے اسے کسی نے قتل کیا ہے؟ بخدا! اگر ہمیں قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کردیں گے“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۶۸) اس واقعہ کو واقدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔واقدی کی کیا پوزیشن ہے اس کو پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے کہ شخص خود سے واقعات بنانے میں ماہر تھا۔امام ابن تیمیہ کی کتاب میں جو حوالہ دیا گیا ہے وہ اسی کی کتاب المغازی الواقدی ۱۷۶/۱ کا ہے اور اس واقعہ کی کوئی سند بھی پیش نہیں کی گئی۔الطبقات الکبری کے حوالہ سے صرف یہ بات لکھی ہے کہ یہ ایک یہودی تھا۔اس واقعہ کو پڑھنے سے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری بات بناوٹی ہے قصیدہ تعریف میں لکھا جاتا ہے پھر لوگوں کو عداوت پر پہلے ہی بھڑ کا یا کرتا تھا تو پھر جنگ بدر کے بعد کیا تبدیلی ہوئی وغیرہ سب باتیں بناوٹی دکھائی دیتی ہیں۔اسی حوالہ کو پیرزادہ شفیق الرحمن صاحب نے بھی اپنی