اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 290
290 سیرت النبی کامل مرتبہ ابن ہشام جلد دوم صفحه ۴۸۵ - ۴۸۶) اس حرکت کے بعد ابن خطل ( کو سخت خطرہ اور ڈر محسوس ہوا اور وہ ) مرتد ہو کر وہاں سے بھاگ گیا۔یہ چونکہ شاعر تھا اس لئے اب اس نے آنحضرت علیم کی شان میں گستاخانہ شاعری شروع کر دی اور اپنے شعروں میں آنحضرت علی کی تو ہین اور ہجو کرنے لگا۔اس کے پاس دو داشتائیں بھی تھیں جو اس کے اشعار گا یا کرتی تھیں اور ابن خطل ان کو آنحضرت سلم کی ہجو میں اشعار لکھ کر دیا کرتا تھا۔“ (سیرت حلبیہ اردوجلد پنجم صفحه ۲۷۷) 7 امام ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ اس طرح اس کے تین ایسے جرائم تھے جس سے کسی کا بھی خون مباح ہو جاتا ہے۔ا قتل نفس ۲ ارتداد ۳ ہجو گوئی الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۹۹) یہاں تین وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ارتداد کی بحث پیچھے گزر چکی ہے مرتد کی سزا قتل قرآن سے ثابت نہیں۔اسی طرح بجو گوئی کی سزا قتل بھی قرآن سے ثابت نہیں۔اب ایک ہی وجہ باقی رہتی ہے جو کہ قتل نفس ہے۔اس شخص نے اسی بات کا ارتکاب کیا تھا اور قتل کی سز اقتل قرآن سے ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ط يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَمُ الْحُرُّ بِالْحُرِ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْأَنْث بالانفط ( البقرة آیت نمبر ۱۷۹) یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے اگر ( قاتل ) آزاد ( مرد ) ہو تو اسی آزاد ( قاتل ) سے اور اگر ( قاتل ) غلام ہو تو اسی غلام