اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 289 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 289

289 الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۹۸) اب ایک ہی صورت باقی رہتی ہے جسے تمام مؤرخین نے لکھا ہے کہ اسی طرح رسول اللہ صل العلیم نے ابن خطل کے قتل کا حکم دیا تھا۔دراصل یہ فتح مکہ سے پہلے مدینے آیا تھا اور مسلمان ہو گیا تھا۔اس سے پہلے اس کا نام عبد العزیٰ تھا جب یہ مسلمان ہوا تو رسول الله مال لیلی نے اس کا نام عبد اللہ رکھا تھا۔اس کے بعد آنحضرت علیم نے اس کو صدقات وصول کرنے کے لئے دوسری بستیوں میں بھیجا۔اس کے ساتھ ایک انصاری شخص کو آپ نے خدمت گار کے طور پر بھیجا۔ایک روایت میں یوں ہے کہ۔اس کے ساتھ خدمت کے لئے اس کا ایک غلام بھی تھا جو خود بھی مسلمان تھا۔راستے میں ایک جگہ ابن خطل نے پڑاؤ کیا اور غلام کوحکم دیا کہ ایک بکرا ذبح کر کے کھانا تیار کردے۔یہ حکم دے کر ابن خطل پڑ کر سو گیا۔جب سو کر اٹھا تو اس نے دیکھا کہ خادم نے کھانا تیار نہیں کیا تھا بلکہ خود بھی پڑا اسور ہا تھا۔یہ دیکھ کر ابن خطل سخت غضبناک ہو گیا اور غصہ میں خادم پر حملہ کر کے اسے قتل کرڈالا۔( سیرت حلبیہ اردوجلد پنجم صفحه ۲۷۷) اسی طرح سیرت النبی ابن ہشام میں لکھا ہے کہ اس کے قتل کا حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ جب یہ مسلمان ہوا اسے رسول اللہ صلعم نے وصول صدقات کے عامل بنا کر ایک انصاری کے ساتھ بھیجا۔ساتھ اس کا غلام بھی تھا جو مسلمان تھا اور اس کی خدمت پر معمور تھا۔ابن خطل ایک منزل پر اترا اور اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ مینڈھا ذبح کر کے کھانا تیار کرے اور خود سو گیا اور جب جاگا تو کھانا تیار نہ تھا ابن خطل نے غلام پر حملہ کر کے قتل کردیا اور خودمرتد ہو گیا۔“