اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 278 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 278

278 رسول الله السلام کے پاس مدینہ پہنچا۔اور یہی بات تھی جو فتح مکہ کے لئے موجب ہوئی۔آپ مسجد میں سب لوگوں کے درمیان موجود تھے کہ عمر و خزاعی نے سامنے آکر یہ شعر پڑھنے شروع کئے۔(اس کا پہلا شعر یہ ہے ) يارب إلى دليلٌ مُحَمَّدًا حِلْفَ أَبِيْنَا وَآبِيْهِ الْأَثْلَهَا سیرت النبی کامل مرتبہ ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۴۶۴) سیرت ابن ہشام میں ایسا کوئی واقعہ درج نہیں کہ توہین آمیز اشعار کی بنا پر قبیلہ خزاعہ کے کسی لڑکے نے انس پر حملہ کیا تھا اور نہ ہی اس واقعہ کا رسول کریم ملی ایم کے پاس ذکر کرنے کا تذکرہ ہے کہ جس پر رسول کریم علیلم لیلی نے اس کے خون کو صدر قرار دیا۔تاریخ اسلام کے مصنف مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی نے بھی اس واقعہ کو درج کیا ہے لیکن آپ نے بھی اس ہجو والے واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔دراصل یہ دو قبیلوں کی دیرینہ آپسی دشمنی کا شاخسانہ تھا اور صلح حدیبیہ کے بعد بنو بکر کو اور قریش کو یہ نہیں چاہئے تھا کہ وہ بنو خزاعہ پر حملہ کرتے اور ان کے آدمیوں کا قتل کرتے بلکہ انہوں نے شبخون مارا اور تیس چالیس افراد کوقتل کردیا جب اس کی اطلاع رسول کریم ملایم تک پہنچی تو آپ صلیم نے بنوخزاعہ کی مدد کا وعدہ کیا اور ایک لشکر تیار ہو اور یہ واقعہ فتح مکہ کا باعث ہوا۔الغرض واقدی نے جو بات لکھی ہے اس کے حوالہ سے دیگر کتب میں یہ واقعہ درج ہوا ہے ان کے علاوہ اور کوئی بھی مؤرخ کسی ثقہ حوالہ سے اسے پیش نہیں کرتا۔پھر یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اس ہجو کرنے والے کا انجام کیا ہوا بقول واقدی آپ لم نے اسے معاف فرما دیا۔ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہجو کرنے والی کی معافی بھی قبول نہیں کی جائے گی اور دوسری طرف اسی واقعہ میں یہ بات دیکھنے میں ملتی ہے کہ آنحضرت