اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 279
279 م اسی معافی طلب کرنے پر معاف فرما دیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ہجو کہتا ہے اور پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور معافی طلب کرتا ہے تو اسے معاف کیا جائے گا یہی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطف عمل علم کا اسواہ ہے اور پھر ایسے معاف کرنے کے بہت سے واقعات آنحضرت علی کی زندگی میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو آنحضرت علی نے جن لوگوں کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا ان کی وجوہات صرف ہو نہیں تھی بلکہ دیگر سنگین جرائم تھے ان کی آج کے زمانہ میں بھی قتل کی ہی سزا مقرر ہے۔اسلام پر یہ سراسر الزام ہے کہ اسلام صرف تو ہین رسالت کی بنا پر ہی کسی کے قتل کی سزا تعین کرتا ہے۔