اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 230 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 230

230 احادیث اور توہین رسالت کی سزا ہمارے ایسے علماء جو تو بین رسالت کی سزا قتل مانتے ہیں انہوں نے بعض احادیث اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کی ہیں۔بعض علماء نے تو حوالے پیش کئے ہیں اور بعض کوئی حوالہ بھی پیش نہیں کیا۔کچھ علماء نے واقعات کو ذکر کرتے وقت واقدی کی بعض روایات پیش کی ہیں۔جب کہ بہت سے علماء کا یہ بھی ماننا ہے کہ واقدی ان لوگوں میں شامل ہے جو جھوٹے قصے اور واقعات بیان کرنے اور بناوٹی باتوں کو حقیقت کا رنگ بھر کے پیش کرنے میں ماہر ہے۔اس لئے واقدی کی روایات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔البتہ جو واقعات احادیث میں پیش ہوئے ہیں ان پر غور کیا جانا ضروری ہے۔احادیث پر غور کرنے کے ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ جو روایت پیش کی جارہی ہے اور جسے رسول کریم علی کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے وہ کہیں قرآن کریم کی کسی واضح تعلیم کے خلاف تو نہیں؟ اگر ایسی بات دکھائی دے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس حدیث کی کوئی نہ کوئی توجیح کرنی ہوگی جو کہ قرآن کے عین مطابق ہو۔کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ آنحضرت سلیم اپنی طرف سے کوئی ایسی بات کہیں جو کہ قرآن کریم کی تعلیم کی صریح خلاف ہو۔علماء نے توہین رسالت کی سز اقتل کو ثابت کرنے کے لئے جن احادیث کا سہارا لیا ہے وہ چند ہی ہیں اور عجیب بات ہے کہ تمام علماء نے ہی ان احادیث کو اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے۔کسی نے کسی حدیث کو پہلے پیش کر دیا اور کسی نے کسی دوسری حدیث کو اور دیکھا جائے تو امام ابن تیمیہ نے ان ساری احادیث کو ہی بیان کر دیا ہے۔امام ابن تیمیہ نے جس حدیث کو سب سے پہلے بیان کیا ہے وہ حدیث ہے جس میں ایک نابینا شخص کے ایک یہود یہ کے قتل کرنے کا ذکر ملتا ہے۔لکھا ہے کہ شعبی نے حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی عورت رسول کریم علیم کو