اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 198 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 198

198 دو مذکورہ صدر آیت کریمہ میں عہد شکنی کرنے والوں اور دین کو ہدف طعن بنانے والوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں یقین دلایا کہ اگر ہم اس طرح کریں کے تو وہ ہمارے ہاتھوں دیہ انہیں عذاب دیگا، انہیں رسوا کرے گا، ان کے خلاف ہمیں مدد دیگا اور مومنین کے سینوں کو شفا دے گا جو کفار کے نقص عہد اور طعن کی وجہ سے زخم خردہ ہو چکے ہیں ، اس طرح ان کے دل میں جو غصہ ہے وہ دور ہو جائے گا، اس لئے کہ اس کو ہمارے جنگ کرنے پر اس طرح مرتب کیا ہے جس طرح جزا شرط پر مترتب ہوتی ہے۔عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم ان سے لڑو گے تو یہ سب کچھ ہو کر رہے گا، پس معلوم ہوا کہ عہد شکنی کرنے والا ان سب باتوں کا مستحق ہوتا ہے، ورنہ کفار کبھی ہم پر غالب ہوتے ہیں اور کبھی ہم ان پر غلبہ حاصل کرتے ہیں اگر چہ انجام کار کامیابی متقی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔حدیث میں جو کچھ آیا ہے یہ آیت اس کی تصدیق کرتی ہے۔حدیث میں فرمایا X ج قوم بھی عہد شکنی کرتی ہے دشمن اس پر غالب آجاتا ہے ( سنن ابن ماجہ ) الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۶۰ و ۶ ) اس جگہ ایک اور بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیات کی وضاحت کرتے وقت ایک بات بڑی عجیب دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ ایک قوم اپنے ہی دین پر قائم رہتے ہوئے اسلامی حکومت میں عہد و پیمان کر کے بطور ذمی رہنا قبول کرلیتی ہے پھر وہ نقص عہد کرتی طعن فی الدین کی بھی مرتکب ہوتی ہے پھر وہ رسول کو بھی ان کے گھر سے نکالنے کا ارادہ کرتی ہے ان سب باتوں کی بنا پر اللہ نے یہ حکم دیا کہ تم ان کے خلاف جنگ کرو۔اور امام ابن تیمیہ نے قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ کرتے وقت فَقَاتِلُوا کا ترجمه ألا تُقَاتِلُونَ اور قَاتِلُوهُمْ کا ترجمہ جنگ کرو جنگ کیوں نہیں کرتے ان سے