اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 19 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 19

19 یعنی۔اور ہم نے ان پر فرض کیا تھا کہ جان کے بدلہ میں جان اور آنکھ کی بدلہ میں آنکھ اور ناک کے بدلہ میں ناک اور کان کے بدلہ میں کان اور دانت کے بدلہ میں دانت۔اور نیز زخموں کے بدلہ میں ) زخم برابر کا بدلہ ہیں۔مگر جو شخص ( اپنے ) اس ( حق ) کو چھوڑ دے تو (اس کا فعل ) اس کے لئے گناہ کی معافی کا ذریعہ ہو جائے گا اور جو لوگ ) اس ( کلام ) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی (حقیقی) ظالم ہیں۔قرآن کریم کی یہ وہ آیت ہے جو کسی سے بدلہ لینے میں بھی انصاف سے کام لینے کا حکم دیتی ہے۔اسلام دنیا میں انصاف قائم کرنے ہی آیا ہے۔آگے چل کر تو بین رسالت کے تعلق سے جو بیان ہوگاوہ اسی انصاف والی آیت کو مد نظر رکھ کر ہی بیان کیا جائے گا کیونکہ یہ بنیاد ہے۔پھر اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جو محسن انسانیت ہو اور جسے اس دنیا میں بھیجا ہی انصاف قائم کرنے کے لئے ہو اس کی طرف کسی بھی قسم کی نا انصافی کا اشارہ بھی کیا جا سکے۔اس سلسلہ میں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم نازل ہور ہا تھا جن جن امور کے متعلق قرآن کریم میں احکامات نازل ہو چکے ہوتے آپ فیصلہ کرتے وقت ہمیشہ انہی احکامات کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے اور اگر کوئی ایسا امر پیش آتا جس کے بارے میں قرآن کریم میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا ہوتا تھا تو آپ سابقہ شریعت کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔انصاف سے فیصلہ کرنے کی بات اس جگہ پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَ الْحُرُ بِالْحُرِ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْتُ بِالْأُنْتُ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ فَاتَّبَاعُ بالْمَعْرُوفٍ وَآدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى