اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 178 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 178

178 (ج) اگر کوئی شخص ایسی حالت میں مرجاتا تھا کہ جس کے ذمہ جزیہ کی کوئی رقم واجب الادا ہوتی تھی تو وہ معاف کر دی جاتی تھی۔اور مرنے والے کے ورثاء اور ترکہ کو اس کا ذمہ وار نہیں قرار دیا جاتا تھا۔(بحوالہ درجہ بالا) کیا سلوک آج کوئی قوم کسی دوسری قوم سے کرتی ہے؟ پھر یہی نہیں کہ جز یکی تشخیص میں نرمی سے کام لیا جاتا تھا بلکہ اگر جزیہ واجب ہو جانے کے بعد بھی کسی شخص کی مالی حالت جزیہ ادا کرنے کے قابل نہ رہتی تھی تو اسے جزیہ کی رقم معاف کر دی جاتی تھی۔چنانچہ ذیل کا تاریخی واقعہ اس کی ایک دلچسپ مثال ہے۔روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں بعض غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرنے میں کچھ سختی کی جا رہی تھی۔یہ دیکھ کر حضرت عمر فور ارک گئے اور غصہ کی حالت میں دریافت فرمایا کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ عرض کیا گیا کہ یہ لوگ جزیہ ادا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی طاقت نہیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان پر وہ بوجھ ڈالا جاوے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔انہیں چھوڑ دو۔میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتا ہے وہ قیامت کے دن خدا کے عذاب کے نیچے ہو گا۔چنانچہ ان لوگوں کا جزیہ معاف کر دیا گیا“ (کتاب الخراج فصل في من تجب عليه الجزية ) حضرت عمر کو آنحضرت علی کے تاکیدی ارشادات کے ماتحت اپنی غیر مسلم رعایا کا اس قدر خیال تھا کہ انہوں نے فوت ہوتے ہوئے خاص طور پر ایک وصیت کی جس کے الفاظ یہ تھے۔میں اپنے بعد میں آنے والے خلیفہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا سے بہت نرمی اور شفقت کا معاملہ کرے۔ان کے معاہدات کو پورا کرے ان کی حفاظت کرے۔ان کے لئے ان کے دشمنوں سے لڑے اور ان پر قطعاً کوئی ایسا بوجھ یا ذمہ داری نہ