اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 177
177 کے خلفاء نے بھی یہی طریق جاری رکھا کہ ہر قوم کے مناسب حال ان سے جزیہ کا ٹیکس وصول کیا جا تا تھا اور افراد پر اس ٹیکس کی تقسیم ایسے رنگ میں کی جاتی تھی کہ ہر شخص پر اس کی مالی طاقت کے مطابق بوجھ پڑتا تھا۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ خلفاء اربعہ کے زنانہ میں جزیہ کے ٹیکس کی صورت عموماً یہ تھی کہ خوشحال لوگوں سے اڑتالیس درہم سالا نہ لیا جاتا تھا۔اور متوسط الحال لوگوں سے چوبیس درہم سالانہ اور ان سے کم حیثیت لوگوں سے صرف بارہ درہم سالانہ لیا جاتا تھا۔(کتاب الخراج قاضی ابو یوسف فصل في من تجب عليه الحجرية ) یه خفیف ٹیکس بھی ساری غیر مسلم آبادی پر نہیں لگایا جا تا تھا بلکہ مندرجہ ذیل اقسام کے لوگ اس سے مستثی تھے۔ا۔تمام وہ لوگ جو مذ ہب کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتے تھے۔۲۔تمام عورتیں اور بچے۔۔تمام بوڑھے اور معتمر لوگ جو کام کے ناقابل تھے ۴۔تمام نابینا لوگ اور اسی قسم کے دوسرے معذور لوگ جو کام نہ کر سکتے تھے۔۵۔تمام مساکین اور غربا، جن کی مالی حالت جزیہ کی ادائیگی کے قابل بھی۔(كتاب الخراج فصل فى من تحجب عليه الجزية ) جزیہ کی تحصیل میں یہ اصول مدنظر رکھے جاتے تھے۔(الف) جزیہ دینے والے کو اختیار تھا کہ خواہ نقد ادا کرے یا اس کی قیمت کے اندازے پر کوئی چیز دے دے۔(ب) جزیہ کی وصولی سے متعلق تاکیدی حکم تھا کہ اس معاملہ میں کسی قسم کی سختی سے کام نہ لیا جاوے اور بالخصوص بدنی سزا سے منع کیا گیا تھا۔