اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 156 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 156

156 سے ایسا کرتے تھے صبح ایمان لے آتے اور شام کو انکار کر دیتے کہ بھئی ہم نے مان تو لیا تھا لیکن بعد میں ہم نے غور کیا تو ہم نے دیکھا کہ ہم نے ایمان لا کر غلطی کی ہے اس لئے ہم اب انکار کرتے ہیں۔وہ لوگ جو حامیان قتل مرتد ہیں ان میں سے بعض کا یہ کہنا ہے کہ یہ تو یہود کی ایک تجویز تھی مگر اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہود اس بات سے واقف تھے کہ مرتد کی سزا قتل ہے تو جو ہمیشہ لبی زندگی گزارنے کے خواہشمندر ہے وہ تو ایسا سوچ کر اپنے آپ کو مصیبت میں کیونکر ڈال سکتے تھے بلکہ ان کا اس طرح سے سوچنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں مرتد کی سز اقتل نہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ یہود کی یہ کوئی تجویز ہی نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان یہود کے اندرو نے کو بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف دکھاوے کی خاطر ایمان لاتے ہیں اور پھر انکار بھی کر دیتے ہیں اسی بات کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَد دَخَلُوا بِالْكُفْرِ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُبُونَ (المائده آیت ۶۲) یعنی۔اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ وہ کفر ( ہی کے عقیدہ) کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور (پھر) وہ اس ( عقیدہ) کے ساتھ (ہی) نکل گئے تھے اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اسے اللہ سب سے بڑھ کر جانتا ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہود کی اس چال سے جو اوپر آیت میں بیان ہوئی ہے اللہ تعالیٰ بھی پوری طرح واقف تھا اور اس نے اپنے رسول کو بھی اس چال سے اطلاع دی تھی۔اور یہود اسی طرح کرتے چلے گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام پر ایمان کا دعویٰ کرنے کے بعد اس سے پھر جانے کی تو کوئی سزا نہیں ہے۔اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو وہ یہ نہ تو سوچ سکتے