اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 155
155 قرآن اور مرتد کی سزا ہر مسلمان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے اور یہ کامل اور مکمل تعلیم ہے اور قیامت تک اس شریعت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہ قیات تک کے لئے ضابطہ ء حیات ہے۔اور قرآن کریم کی تعلیمات بڑی واضح اور صاف صاف ہیں پھر آنحضرت علی کا عمل اس پر دلیل ہے۔مرتد کی سزا قتل کو بعض علماء کی طرف سے بار بار اس شدت سے اٹھایا گیا ہے کہ اس کے بارے میں لوگوں کے ذہن میں یہ خیال گھر کر گیا ہے کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہی ہے۔لازمی بات ہے کہ جب ارتداد کی بات ہوگی تو اس کے ساتھ ہی تو بین رسالت کی بات بھی اٹھے گی کیوں کہ جو شخص مرتد ہوتا ہے ان میں سے بعض کے ذریعہ سے توہین رسالت کئے جانے کا بھی امکان روشن ہو جاتا ہے اس لئے جہاں مرتد کی سزا کے بارے میں بات ہوگی اس کے ساتھ ہیں تو بین رسالت پر بھی غور کیا جائے گا ان امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے اس کو دیکھا جانا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ امَنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَكَفَرُوا أُخِرَةَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (ال عمران آیت ۷۳) یعنی۔اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مومنوں پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر دن کے ابتدائی حصہ میں تو ایمان لے آؤ اور اس کے پچھلے حصہ میں اس کا انکار کر دو شاید (اس کے ذریعہ سے ) وہ پھر جائیں۔قرآن کریم کی اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں مرتد کی سز اقتل نہیں کیونکہ یہود اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے اسی لئے یہ لوگ ایمان لانے والوں کو ورغلانے کی غرض