اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 112
112 ساتھ تشریف لے گئی تھیں۔آنحضور بلال سلیم کا لشکر کو جب واپسی کے وقت مدینہ کے قریب ایک جگہ ٹھہرا ہوا تھا تو آپ نے لشکر کو رات کے وقت نکلنے کا حکم صادر فرمایا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب میں نے یہ اعلان سنا تو میں حوائج انسانی سے فارغ ہونے کے لئے لشکر سے باہر نکل کر ایک طرف کو گئی اور فارغ ہو کر واپس لوٹ آئی جب میں اپنے اونٹ کے قریب پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے گلے کا ہار ندارد ہے۔اس کی تلاش میں میں پھر واپس لوٹ گئی اور اس کی تلاش میں مجھے کچھ دیر ہوگئی۔اسی اثناء میں وہ لوگ جو میرا ہوؤ دہ اُٹھانے پر متعین تھے آئے اور یہ خیال کر کے کہ میں ہودہ کے اندر ہوں انہوں نے میرا ہودہ اٹھا کر اونٹ کے اوپر رکھ دیا اور تشکر کے ساتھ روانہ ہو گئے۔آپ فرماتی ہیں کہ میں اس زمانہ میں پہلی دہلی تھی اس لئے ہودہ اٹھانے والوں کو یہ شک بھی نہ گزرا تھا کہ میں ہودہ میں ہوں یا نہیں۔جب میں واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ لشکر روانہ ہو چکا ہے۔اس پر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اسی جگہ بیٹھ جاتی ہوں میری غیر موجودگی پر مجھے تلاش کرتے ہوئے لشکر کے لوگ یہیں آئیں گے۔آپ فرماتی ہیں کہ میں و ہیں بیٹھ گئی اور بیٹھے بیٹھے مجھے نیند آ گئی۔ایسے مواقع پر کسی ایک شخص کی ڈیوٹی ہوتی تھی کہ وہ لشکر کے چلے جانے کے بعد پورے میدان کا جائز ولے اور اگر کوئی چیز پیچھے رہ گئی ہو تو وہ لیکر آئے اس کام پر صفوان بن معطل کی ڈیوٹی تھی۔چنانچہ جب وہ پیچھے سے آئے اور صبح کے قریب میری جگہ پر پہنچے تو انہوں نے مجھے وہاں اکیلے سوتے ہوئے دیکھا۔چونکہ وہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے مجھے فوراً پہچان گئے جس پر آپ نے گھبرا کرانا یله و إنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون پڑھا۔ان کی یہ آواز سن کر میں جاگ گئی اور فوراً اپنا منہ اوڑھنی سے ڈھانپ لیا۔آپ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم اس نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اس کلمہ کے سوا اس کے منہ سے کوئی اور الفاظ سنے۔اس کے بعد وہ اپنے اونٹ کو آگے لایا اور