اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 111
111 تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔(سیرت ابن ہشام جلد دوم اردو ترجمه صفحه ۳۴۹,۳۴۸) تاریخ میں آتا ہے کہ جب یہ شکر مدینہ میں داخل ہور ہا تھا تو عبداللہ ابن عبداللہ بن ابی بن سلول اپنے والد کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا خدا کی قسم میں تمہیں واپس نہیں جانے دونگا جب تک تم اپنے منہ سے یہ اقرار نہ کرو کہ رسول اللہ علیم معزز ترین ہیں اور تم ذلیل ہو اور عبداللہ نے اس اصرار سے اپنے باپ پر زور ڈالا کہ آخر اس نے مجبور ہو کر یہ الفاظ کہہ دیتے جس پر عبداللہ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔(سیرت ابن ہشام ) یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے صاف صاف تو بین رسالت دکھائی دیتی ہے اگر اسلام میں اور قرآن کریم میں توہین رسالت کرنے والے کی سز اقتل کا حکم ہوتا تو آپ ضرور اس موقعہ پر عبد اللہ بن ابی بن سلول کو قتل کرنے کا حکم دیتے لیکن آپ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ ہمیشہ ہی اس کے ساتھ رافت اور نرمی کا سلوک فرمایا۔ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بین سلول کی وفات ہوئی تو آنحضور علی نے اس شخص کی نماز جنازہ تک ادا فرمائی۔اپنی ایک قمیض بھی اسے عطا کی تھی جو اس کی نعش کے ساتھ بطور کفن کے دفن کی گئی۔اس واقعہ پر آنحضرت علی کا عمل یہ بتاتا ہے کہ اسلام میں اور قرآن کریم میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا قتل ہے۔۲۔قرآن کریم میں ایک اور واقعہ بھی درج ہے جو کہ اسی غزوہ کے موقعہ پر پیش آیا یہ واقعہ واقعہ افک“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔آنحضرت علیم کا یہ طریق مبارک تھا کہ جب بھی آپ کسی سفر کے لئے تشریف لے جاتے تو اپنے ساتھ اپنی ازواج میں سے بھی کسی کو لے جاتے تھے۔اس موقعہ پر قرعہ حضرت عائشہ کے نام نکلا تھا اور آپ آنحضور بیلیم کے